تھانے (آفتاب شیخ)تھانے کے مسلم آبادی والا علاقہ رابوڑی میں واقع قدیم سماجی ادارہ انجمن خاندیش جو گزشتہ 42 سالوں سے بے لوث سماجی، تعلیمی، ثقافتی، دینی خدمات دے رہاہے۔ انجمن خاندیش کے زیر انصرام گزشتہ چالیس برسوں سے مدرسہ معین العلوم چلایا جاتا ہے جس میں علاقہ کے چھوٹے بچوں کےلیے صبح اور شام مکتب اور رات دس بجے سے گیارہ بجے تک تعلیم بالغاں کا مرکز چلایا جاتا ہے۔ جہاں تعلیم اور طلباء کو یونیفارم بالکل مفت دیے جاتے ہیں۔ اس سال یوم جمہوریہ کے موقع پر ادارہ انجمن خاندیش کی جانب سے مدرسہ معین العلوم کے طلباء کے ذریعے ان کے اور دیگر مدارس کے طلباء کو آئین کی تمہید پڑھائی گئی۔ انجمن خاندیش کے ذمہ داران نے بتایا کہ ملک کے موجودہ حالات میں شہریوں خصوصاً طلباء جو کے ملک کا مستقبل ہے انہیں معلوم ہونا ضروری ہے کہ آئین میں ان کو کیا کیا حقوق دیے گئے ہیں۔
اسی سبب ہم نے اس سال سے آئین کی تمہید پڑھنے کا اہتمام کیا اور شاید سے یہ پہلا موقع ہوگا کہ جہاں مدارس کے طلباء نے آئین کی تمہید پڑھی اور دیگر حاضرین کو بھی پڑھائی۔ اس میں ہم نے دیگر مدارس کے طلباء اور ان کے ذمہ داران کو بھی مدعو کیا تھا۔ معین العلوم مدرسہ کے مدرس حافظ آزاد کی تلاوت قرآن پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا اس کے بعد ادارہ کے جنرل سیکریٹری آفتاب شیخ نے ملک کے لیے قربانیاں دینے والے مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کی۔ عاقد علی قاضی نے یوم جمہوریہ پر اظہارِ خیال کیا۔
معین العلوم مدرسہ کی طالبہ بتول شیخ و طائبہ سید نے حاضر طلباء و دیگر ذمہ داران کو آئین کی تمہید انگلش میں پڑھائی اور عرفیہ، حمیرہ، الیزا نے اس کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ادارہ کے صدر سید عباس علی نے شکرانہ کی تحریک ادا کی۔ حافظ محمد آزاد نے ملک کی سلامتی کے لیے دعا کی اس کے بعد طلباء کو ناشتہ اور قومی ترنگا دیا گیا۔ مدرسہ معین العلوم، سنی سرکل، مدرسہ مدینتہ العلوم و دیگر مدارس کے سو سے ذائد طلباء نے شرکت کی خدیجہ شیخ و دیگر طلباء نے راشٹریہ گیت پڑھایا اور اس کے بعد پروگرام کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر انجمن خاندیش کے ٹرسٹیان ذاہد علی قاضی، اکرم بنے خان، عقیل قریشی، وسیم ملک، ساجد شیخ، سلیم شیخ، شکیل خلیل شیخ و دیگر اراکین موجود تھے۔