
حیدرآباد، 27مئی(یواین آئی) تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ میں تراویح کی امامت کے دوران حافظ صاحب کے قلب پر حملہ ہوا جس کے نتیجہ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق حافظ میر احمد الدین رمضان کے آخری عشرہ میں اتوار کی شب ضلع کی مسجد گڑھی میں منعقدہ شہ شبی شبینہ کے پہلے دن اکیلے ایک تا پانچ پارہ تراویح میں سنا رہے تھے۔
انہوں نے اٹھاویں رکعت میں ہی پانچ پارہ مکمل کئے اسی دوران ان کی طبیعت بگڑ گئی جس کے بعد فوری مصلیوں نے انہیں اسپتال منتقل کردیا جہاں پر کچھ منٹ کے بعد ہی وہ اپنے رب حقیقی سے جاملے ڈاکٹرس کے مطابق اسپتال پہنچنے سے ایک گھنٹہ قبل ہی دو دفعہ ان کو دل کا دورہ پڑااور اسپتال منتقل کرنے کے بعد آخری بار شدید حملہ ہوا جس کی وجہہ ان کی موت واقع ہوگئی یعنی دوران تراویح ہی قلب پر دو مرتبہ حملہ کا شکار ہوئے لیکن وہ پانچ پاروں کی تکمیل تک ہمت کے ساتھ جائے نمازپر رہے۔
ان کی موت پر نلگنڈہ میں شدید غم کی لہر دوڑ گئی۔ یہ خبر جیسے ہی عام ہوئی،اسپتال اور پھر ان کی رہائش گاہ مانیعم چلکہ نلگنڈہ میں تمام معززین وعلماء اکرام،حفاظ اکرام، اساتذہ دوست احباب وسیاسی و غیر سیاسی لیڈران اور صحافیوں کی بلا لحاظ مذہب و ملت کثیر تعداد نے پہنچ کر ان کا آخری دیدار کیا اور ارکان خاندان کو پرسہ دیا۔مرحوم نہ صرف جید حافظ قرآن تھے بلکہ سرکاری مدرس بھی تھے۔نماز جنازہ بعد نماز ظہر مولانا سید شاہ احسان الدین قاسمی و رشادی نے پڑھائی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی حیدرآباد لے جایا گیا جہاں پر بعد نماز مغرب مسجد معراج سعید آباد میں دوبارہ نماز جنازہ پڑھائی جاے گی اور بعد ازاں مسجد سے متصل قبرستان چنچل گوڑہ میں تدفین عمل میں لائی جائے گی پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک لڑکا ڈاکٹر اویس اوردو لڑکیاں شامل ہے۔
ایک قابل رشک موت
ایک مخلص خادم قرآن اور سید الحفاظ اور علماء و حفاظ اور دینی خداموں کے انتہائی قدرداں اور بے پناہ محبت کرنے والے سب ملنے جلنے والوں سے خنداں پیشانی سے پیش آنے والے سب کی تکریم و احترام کرنے والے سب کو مقام و مرتبہ دینے والے
حافظ میر احمد الدین مظہر صاحب کا ابھی انتقال ہوگیا ہے
مرحوم آج مسجد گڑھی میں جمعیت الحفاظ کے چھ شبی شبینہ میں تراویح کی اٹھارہ رکعتوں میں تنہا پانچ پاروں کو پڑھانے کے بعد سینے میں تنگی کی شکایت کی اسکے بعد قئے ہوگئی دوا خانہ لے جایا گیا جہاں اٹیک ہوگیا ایک گھنٹہ کی کشمکش کے بعد اپنے رب حقیقی سے جا ملے وہ اپنی قسمت چمکا گئے لیکن اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو سوگوار کرکے گئے
اللہ تعالی غریق رحمت کرے