از :🖋 ۔۔۔۔طیبہ شاہد ۔ چوکیہ جونپور یوپی
آدم کی خلقت سے اب تک عورت و مرد معاشرے کے اہم ستون ہیں۔اور معاشرے کو پر امن بنانے کیلئے دونوں کا رول بہت اہم ہے۔کسی بھی سوسائٹی کی ترقی اور اسکے اعلی اخلاق کی بقاء کےلئے تعلیم لازمی ہے۔اسلامی شریعت نے عورت کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا ہے۔اور بنت حوا کو دینی و دنیاوی تعلیم کو حاصل کرنے کا درس دیتا ہے۔شرعی حکم کے باوجود ملک عزیز میں اکثر علاقے ایسے ہیں۔جہاں پر بنت حوا کو تعلیمی زندگی سےمحروم رکھا جاتا ہے۔آج بھی دورے جدید میں بہت سے ایسے گاؤں اور علاقے موجود ہیں جہاں پر بنت حوا کا علم حاصل کرنا غیر ضروری ہے۔انسان جب تعلیمی زیور سے آراستہ ہوتا ہے تو واقعی وہ انسان ہوتاہے اور ہر دور میں تعلیم یافتہ جماعت کی ایک الگ پہچان اور قدر وقیمت رہی ہے۔تعلیم کے بغیر ایک اچھے معاشرے کے تشکیل کی خواہش بے بنیاد خواہش ہے، انسان کی نافعیت کےلئے ،عصری وغیر عصری تعلیم کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی ضرورت مچھلی کےلئے پانی کی ہے۔تعلیم وہ نسخہ کیمیاہے جو بند دریچوں کو کھولتی ہے اور انسان کو تاریکی سے نکال کر نور عطاء کرتی ہے ،تاکہ انسان علم کے ذریعے راہ مستقیم پر چل سکے اور اپنے رب کی عطاء کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھا سکے، اور اسکا شکر ادا کرسکے،کوئی بھی معاشرہ تعلیم کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ترقی کے منازل طے کرسکتا ہے۔
تعلیم نسواں پر توجہ مرکوز کرکے کسی بھی شعبہ میں کسی بھی قسم کی ترقی لائی جاسکتی ہے ۔زمانے جاہلیت سے اکثر لوگ کہتے چلے آرہے ہیں لڑکی کو تعلیم کیوں دلوائیں اور اس پر اتنا روپیہ اور وقت خرچا کیوں کریں جب کی اسکو آگے جاکر کھانا پکانا گھر سنبھالنا ہے ۔ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ بنت حوا کے وجود سے یہ خوبصورت معاشرہ قائم ہے ۔جو اپنی گود میں نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے ۔جب بنت حوا ہی تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ ہو تو پھر کیسے یہ ممکن ہو گا کہ وہ اگے چل کر اس معاشرے کو سنبھال سکے ۔جب وہ خود کسی قابل ہوگی تو ہی معاشرے کی مضبوط بنیاد رکھ پائیگی سب سے بہترین درسگاہ ماں کی گود ہے۔تاریخ گواہ ہے دنیا کی سب سے پہلی بہترین درسگاہ کی بنیاد حضرت حوا کی گود میں پڑی جس کا صحیح حق آج تک بنت حوا بشکل ماں اپنے بچوں کی علمی لیاقت کی بنیاد پر پرورش کرتی چلی آرہی ہیں اور اللہ کی ذات سے یہی امید ہے کہ یہ ذمہ داری اسی طرح نبھاتی رہینگی۔اور زندگی کے ہر موڑ پر کھلتی کلیوں کو جوانی بخش سکتی ہیں ۔تاریخ کے مطالعے سے بنت حوا کے نمایاں کارنامے اور اسکے واضح نقوش نظر آتے ہیں عہد نبوی میں نبوت جیسی اہم ذمہ داری کو بروئے کار لانے اور ثابت قدمی کے ساتھ دعوت الہی کو عام کرنے میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ہی نہیں بلکہ سب سے پہلے ایمان لاکر آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت وامانت کی شہادت ایک آہنی دیوار بن کر آپ کو سہار دیتی ہیں۔اسی طرح اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کو تعلیمی میدان میں یہ اعزاز حاصل ہے ہیکہ انک شاگردوں کی تعدادا آٹھ ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین کے قریب تک ہے ۔خاتون جنت سرداران جنت کی ماں اور دنوں عالم کے سرادا کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی زندگی بھی بے مثال ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ ایک عظیم اور ہمہ گیر کردار کی مالکہ تھیں۔جوایک بنت حوا کے روپ میں۔ ایک ماں کی شکل میں اور بیوی کے رول میں قیامت تک آنے والی خواتین کےلئے رول ماڈل ہیں۔جنہوں نے اپنے مشفق باپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے بچپن میں سرداران قریش کے ظلم وستم کا بڑی جرات مندی، ہمت وبہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
باری تعالی کا یہ ارشاد (ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم ) ابن آدم بنت حوا کے مابین کسی اور بنیاد پر فوقیت کی جڑیں کاٹ دیں اور یہ اعلان عام کردیا کہ تم میں سے اللہ کے نزدیک وہی معزز ترین وقابل احترام ہے جو زیادہ متقی وپرہیزگار ہوگا۔میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ ملت اسلامیہ کے پاس ایسی خواتین تھیں اور اب بھی ہیں جو علمی میدان میں نمایاں کرادار و حیثیت سے جانی پہچانی جاتیں ہیں۔
ہاں آخر میں یہ بات کہنی بہت ضروری سمجھتی ہوں کہ تعلیم نسواں کے نام پر عوام کو گمراہ کرنا اور اس کی آڑ میں مخلوط تعلیم کو فروغ دینا اور عام کرنا یہ غیر اسلامی عمل ہے ۔اسلامی تعلیمات کی حدود میں رہ کر تعلیم نسواں کوزیادہ سے زیادہ عام کرنا چاہیے تاکہ نئی نسل اعلی اخلاق وکرادار کی مالک بن سکے ۔ تعلیم نسواں کے نام پر بنت حوا کو اسوقت تک صحیح معنوں میں فائدہ ہوتا رہیگا جب تک وہ مخلوط تعلیمی نظام سے دوری بنائے رہینگی ۔اس لیے کہ مخلوط تعلیم تو اسلامی روح کے بھی قطعی منافی ہے۔اور ذہنی وفکری آسودگی اور سماجی واخلاقی پاکیزگی کےلئے بھی سم قاتل ہے۔اس کی اجازت کسی صورت میں بھی نہیں دی جاسکتی ہے.