ایک نمبر پر رہنے والی ریاست حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل چار برسوں سے تیسرے نمبر
ممبئی: کانگریس کے دورِحکومت میں سرمایہ کاری کے معاملے میں مہاراشٹر کا شمار دیگر ریاستوں کی بہ نسبت ترقی یافتہ ریاستوں میں ہوتا تھا۔ ملک کی کل سرمایہ کاری میں سے ایک تہائی حصہ مہاراشٹر میں آتا تھا۔لیکن بی جے پی وشیوسینا کے دور حکومت میں مہاراشٹر میں سرمایہ کاری کا گراف تیزی سے نیچے گرا ہے اور ستمبر تک مہاراشٹر تیسرے نمبر تک پہونچ چکا ہے۔ اس حکومت میں ریاستی صنعتکاری مکمل طور پرتباہی کے دہانے پرپہونچ چکی ہے ۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ممبر پارلیمنٹ اشوک چوہان نے کہیں۔ وہ یہاں گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ ملک میں ہونے والی سرمایہ کاری کے معاملے میں ریاست گزشتہ چار سالو ں سے مسلسل پیچھے ہے۔ مرکزی وزارات برائے صنعت وحرفت کے ڈپارٹمنٹ آف انڈسٹریل پالیسی اینڈ پرموشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق ۲۰۱۶ میں کرناٹک میں ۱؍لاکھ ۵۴ہزار ۱۷۳؍کروڑ اور گجرات میں ۵۶ ہزار ۱۵۶؍ کروڑ روپئے کے سرمایہ کاری کی تجویز موصول ہوئی جبکہ اس کے برعکس مہاراشٹر میں محض ۳۸ہزار ۱۹۳؍ کروڑ روپئے کی ہی سرمایہ کاری کی تجویز آئی۔ ۲۰۱۷ میں کرناٹک میں ا؍لاکھ ۵۲ہزار۱۱۸؍کروڑ روپئے، گجرات میں ۷۹ ہزار ۶۸ کروڑ روپئے کی تجویز آئی جبکہ مہاراشٹر میں صرف ۴۸ ہزار ۵۸۱ کروڑ روپئے کی ہی سرمایہ کاری کی تجویز کے ساتھ تیسرے نمبر رہا۔ اس اعداد وشمار کے مطابق مہاراشٹر میں کرناٹک وگجرات کی سرمایہ کاری کی بہ نسبت انتہائی کم سرمایہ کاری کی تجویز آئی۔ اس سے قبل مہاراشٹر کے بالمقابل گجرات سرمایہ کاری کے معاملے میں بہت پیچھے رہا کرتا تھا ، لیکن جب سے ریاست میں بی جے پی وشیوسینا کی حکومت آئی ہے ، اپنی ناکامیوں سے یہ گجرات کو فائدہ پہونچاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اس معاملے میں کانگریس کی جانب سے آواز اٹھائی گئی تھی لیکن حکومت نے اس پر گول مول جواب دے کر اس معاملے پر پردہ ڈال دیا تھا اور اس سمت میں کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا گیا۔ اشوک چوہان نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سال بھی مہاراشٹر سرمایہ کاری کے معاملے میں تیسرے نمبر پر ہی ہے۔ ۲۰۱۸ ستمبر کے اخیر تک کرناٹک میں ۸۳ ہزار ۲۳۶ کروڑ روپئے کی اور گجرات میں ۵۹ہزار ۸۹ کروڑ روپئےکی تجویز آئی ہے جبکہ مہاراشٹر کو صرف ۴۶ہزار ۴۲۸ کروڑ روپئے کی ہی تجویز موصول ہوئی ہے۔ ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کی تجویز میں ۲۰۱۵ میں مہاراشٹر میں ۱۰.۷ فیصد، ۲۰۱۶ میں ۹.۲۸ فیصد اور ۲۰۱۷میں ۱۲.۲۹فیصد سرمایہ کاری کی تجویز آئی ہے۔ جبکہ ۲۰۱۸ کے ستمبر تک ۱۳.۷۱ فیصد سرمایہ کاری کی تجویز موصول ہوئی ہے۔ اس کے بالمقابل کرناٹک میں ۲۰۱۶ میں ۳۷.۵۵ فیصد، ۲۰۱۷میں ۳۸.۴۸ فیصد اور ۲۰۱۸میں ۲۴.۵۸ فیصد کی سرمایہ کاری کی تجویز موصول ہوئی ہے۔ اشوک چوہان کے مطابق یہ اعداد وشمار مہاراشٹر میں سرمایہ کاری کی صورت حال کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔ گزشتہ سال مرکزی حکومت کی اسی اعداد وشمار کی بنیاد پر کانگریس حکومت کو بیدار کرنے کی کوشش کی تھی۔ حکومت کی جانب سے وزیربرائے صنعت سبھاش دیسائی نے اس کا جواب دیا تھا، لیکن ایک سال بعد بھی صورت حال جوں کی توں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس کی حکومت والی ریاست کرناٹک بغیر کسی شور شرابے کے ملک کی تقریباً ایک تہائی سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کررہی ہے جبکہ بی جے پی وشیوسینا کے نکمے پن کی وجہ سے مہاراشٹر جو پہلے سرمایہ کاروں کی پہلی پسند ہوا کرتا تھا، اب اس نے اپنا مقام کھودیا ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری بی جے پی کے ساتھ شیوسینا پر بھی عائد ہوتی ہے۔
اس پریس کانفرنس میں اشوک چوہان نے اسٹینڈ اپ انڈیا کی ناکامی کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ۲۴؍اگست۲۰۱۸ کو ہوئی ریاستی سطح کے بینکر کمیٹی کی میٹنگ میں بینک آف مہاراشٹر نے اسٹینڈ اپ انڈیا پروگرام پر عمل درآمد کے بارے میں تشویش کا اظہار کیاتھا اور کہاتھا کہ اسٹینڈ اپ انڈیا پر عمل اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس پروگرام کے تحت ریاست کے تمام بینکوں کے تمام شاخوں میں ایک دلت، ایک آدیواسی اور ایک خاتون کی تقرری کا ہدف طئےکیا گیا تھا، لیکن یہ ہدف حاصل کرنے کی سمت کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس سے اس حکومت کی دلت، آدیواسی وعورتوں سے ہمدردی کا مطمح نظر کیا ہے؟یہ ثابت ہوتا ہے۔ بینکر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کل ۲۲ہزار۸۹۰ لوگوں کو اسٹینڈاپ انڈیا پروگرام کے تحت قرض دیا جانا چاہئے تھا اور جو اس کے مستحق بھی تھے، لیکن صرف ۳ہزار ۴۳۰ لوگوں کو ہی ابھی تک قرض دیا جاسکاہے۔ یہ شرح ۱۴.۹۸ فیصد ہے۔ اس پروگرام کا بڑے پیمانے پر تشہیر کرتے ہوئے فی شخص ۱؍کروڑ روپئے تک قرض دئیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو صرف ۱۶.۸۸ لاکھ روپئے ہی دئیے گے۔ اتنے کم پیسوں سے کوئی کاروباری بھلا کس طرح اپنا کاروبار کرسکتا ہے۔ یہ وزیراعظم نریندر مودی ہی سمجھائیں۔اشوک چوہان نے اس موقع پر بھیماکوریگاؤں معاملےمیں سبمھاجی بھڑے اور اس کے ساتھیوں کے اوپر سے فساد کے ۶ مقدمات حکومت کی جانب سے ہٹائے جانے کا بھی تذکرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے کہ سمبھاجی بھڑے سمیت بی جے پی وشیوسینا کے کئی لیڈران کے اوپر سے کئی سنگین مقدمات واپس لے لئے گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سمبھاجی بھڑے حکومت کے لئے ایسا کون ساکام کررہے ہیں کہ ان کے اوپر سے حکومت مقدمات واپس لے رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ زندہ بموں کے ساتھ گرفتار ہونے والے شیوپرتسٹھان کے ممبران تھے۔ اس کے باوجود شیوپرتسٹھان کے صدر سمبھاجی بھڑے کی معمول کے مطابق تفتیش تک نہیں ہوئی۔ کیا سمبھاجی بھڑے حکومت کے داماد ہیں؟ انہوں نے کہاکہ بھڑے کے اوپر سے درج مقدمات واپس لینے والی حکومت نے مراٹھا ریزرویشن کے لئے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے اوپر سے وعدے کے باوجود مقدمات واپس نہیں لے رہی ہے۔یہ نوجوان آزاد میدان میں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ یہ ناانصافی کیوں کی جارہی ہے؟اس پریس کانفرنس میں اشوک چوہان کے ساتھ، ریاستی جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت، پسماندہ طبقات کے ریاستی صدر ڈاکٹر راجو واگھمارے، ریاستی سکریٹری الناصر ذکریا، سید ذیشان احمد اور پرتھوی راج ساٹھے موجود تھے۔