بیڑضلع کی مسلم ماں۔ بیٹی عصمت دری و قتل معاملہ میں سپریم کورٹ کےاہم احکامات

ریاستی حکومت نے ابھی تک ملزمین کے خلاف اپیل داخل نہیں کی ، گلزار اعظمی

ممبئی:19دسمبر(ورقِ تازہ نیوز)مہاراشٹر کے علاقے مراٹھواڑہ کے ضلع بیڑ کے ماجل گاﺅں کے قصبہ چورمبھا میں مسلم ماں اور بیٹی کو عصمت دری کے بعد قتل کردیئے جانے والے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ سے راحت پانے والے دو غیر مسلموں کے خلاف جمعیة علماءکے توسط سے سپریم کورٹ میںد اخل عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرنے کے بعد گذشتہ کل دونوں غیر مسلم ملزمین کو سپرنٹنڈنٹ آف پولس کے ذریعہ نوٹس پہنچانے کے احکامات سپریم کورٹ نے جاری کیئے کیوں کہ ملزمین نے عدالت کی جانب سے بھیجی گئی نوٹس کو لینے سے انکار کردیا تھا.

یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ قتل اور عصمت دری کے معاملے میں نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے دو غیر مسلم کرشنا راﺅ ریڈی اور اچرت کچرو چونچے کو گذشتہ سال 14 اگست کو ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے جسٹس ایس ایس شند ے اور جسٹس کے کے سونونے نے نا کافی ثبوت کی بناءپر پھانسی کی سزا کو معطل کرتے ہوئے انہیں باعزت رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد علاقے کی عوام خصوصاً مسلمانو ں میں شدیدبے چینی پائی جارہی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے مشتبہ رویہ اداکرنے سے ملزمین کو راحت ملی کیونکہ اس نے ہائی کورٹ میں پوری شدت سے بحث نہیں کی نیز اگر سرکاری وکیل ایمانداری سے کام کرتا تو ملزمین کو پھانسی کی سزا سے کوئی بچا نہیں سکتا تھا کیونکہ دونوں ملزموں نے مسلم ماں بیٹی کا ریپ کرنے کے بعد انہیں بے رحمی سے قتل کردیا تھا ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ علاقے کے مسلمانوںنے جمعیة علماءکے مقامی ذمہ داران سے رابطہ قائم کیا اور جمعیة علماءلیگل سیل سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی گذارش کی کیونکہ ریاستی سرکار ملزمین کے خلاف ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے سے ٹال مٹول کا مظاہرہ کررہی تھی جس کے بعد جمعیة علماءنے از خود معاملہ اپنے ہاتھوںمیں لیتے ہوئے دونوں ملزموں کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پرگذشتہ کل سماعت عمل میں آئی جس دو ران سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس این وی رمنا اور جسٹس شانتانو گودرانے جمعیة علماءکے وکیل گورو اگروال کی درخواست پر دونوں ملزمین کو بذریعہ سپرنٹنڈنٹ آف پولس نوٹس پہنچانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے مزید بتایا کہ 28 مئی2015ءکو ملزموںنے نورجہاں (55سال) اور پروین (14سال) کو کھیت میں واقع ان کے گھر میں عصمت دری کرنے کے بعد قتل کردیا تھا جس کے بعد پولس نے مقدمہ قائم کرکے اسپیشل عدالت میں تیزی سے مقدمہ کی سماعت مکمل کرائی جس کے دوران خصوصی جج ایم وی مورالے نے ملزمین کو تعزیرات ہند کی دفعات 376.302 اور پاکسو قانون کی مختلف دفعات کے تحت قصور پایا تھا اور انہیں پھانسی کی سزا دیئے جانے کا فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد ملزمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں استغاثہ کے مشتبہ کردار کی وجہ سے ملزمین کو راحت حاصل ہوئی اور انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے باعزت بری کردیا تھا ۔

تادم تحریر ریاستی حکومت نے ملزمین کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجو ع نہیں کیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہیکہ ریاستی حکومت کی ملی بھگت سے ملزمین کو ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے راحت دی تھی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading