بھیونڈی کانگریس کے سیکریٹری اور ترجمان عبدالحسیب جامعی کانگریس کی اندرونی گروہ بندی سے بیزار ہوکر راشٹروادی کانگریس میں شامل

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- حالیہ لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کی کراری شکست کے بعد قومی اور ریاستی سطح پر کانگریس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔کرناٹک میں حکومت کا گرنا کانگریس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہا ہے۔ایسے میں سارے ملک سے قومی اور علاقائی سطح کے باشعور سیاست دان کانگریس کو خیر آباد کرکے دوسری پارٹی کا رخ کررہے ہیں۔حالیہ دنوں بھیونڈی کانگریس کی اندرونی گروہ بندی سے پریشان و بیزار ہوکر بھیونڈی شہر ضلع کانگریس کے ترجمان اور سیکرٹری عبدالحسیب جامعی کانگریس پارٹی چھوڑ کر راشٹروادی کانگریس میں داخل ہوگئے ہیں جس سے بھیونڈی کانگریس کوبڑا دھکا لگا ہے۔

معلوم ہو ک عبدالحسیب جامعی نہ صرف سیاست دان ہے بلکہ ادب و ثقافت کے حوالے سے شہر میں معروف ہے۔وہ مانوتا فاؤنڈیشن کے صدر کے ساتھ ایکیڈمی فار آرٹس اینڈ کلچر کے صدر کی حیثیت سے بھی تعلیمی حلقہ میں کافی مشہور ہے۔آئڈیا کمینوکیشن دہلی،میڈیا نان پرافٹ سوسائٹی کے مہاراشٹر کے کارڈینیٹر کے علاوہ دی پین فاؤنڈیشن کے بنیادی رکن بھی ہے۔معروف تعلیمی ادارہ اردو وراثت کارواں کے بنیادی اراکین میں بھی عبدالحسیب جامعی شامل ہے۔بھیونڈی راشٹروادی کانگریس میں شمولیت کے موقع پر انہوں نے بتایا کہ قومی سطح پر کانگریس عوام میں اپنی پکڑ کھوتی جارہی ہے جس کے سبب زعفرانی قوتیں مظبوط سے مظبوط تر ہوتی جارہی ہے اسلیے انٹلکیچول طبقے میں یہ سیاسی شعور عام ہوگیا ہے کہ ان فاشست طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاستی سطح پر مظبوط پارٹیوں میں شمولیت کی جائے اور ان کے پلیٹ فارم سے سیاسی آواز بلند کی جائے، چونکہ حالیہ انتخاب میں راشٹروادی کانگریس نے کانگریس سے کئی بہتر مظاہرہ کیا ہے اور شرد پوار حالیہ دنوں میں سیکولر طاقتوں کے درمیان ایک تجربہ کار جہاں دیدہ لیڈر ہے اسلیے قومی سطح پر انکی قیادت اور بھیونڈی کی سطح پر خالد گڈو کی لیڈر شپ میں پارٹی کو مظبوط بنانے کے لیے انہوں نے راشٹروادی کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ بڑے پیمانے پرادب اور ثقافتی پروگرامنعقد کرکے شہر کے تعلیم یافتہ حلقوں میں اپنی الگ شناخت بنانے والے عبد الحسیب جامعی کے راشٹروادی کانگریس پارٹی میں شمولیت کو شہر کے سیاسی بصیرت رکھنے والے افراد بڑی دور رس نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے خالد گڈو کی قیادت میں راشٹروادی کانگریس کی طرف سے یہ مانگ کی گئی تھی کہ بھیونڈی مغرب ودھان سبھا حلقہ کی سیٹ راشٹروادی کانگریس کے حصے میں دی جائے،اگر یہ مانگ منظور ہوجاتی ہے تو اس طرح کے باشعور افراد کے پارٹی میں شامل ہونے سے یقینا پارٹی اور عوام کا فائدہ ہوگا، راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صد رخالد گڈو نے عبد الحسیب جامعی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ابھی شہر کے کئی سنجیدہ اور سیاسی شعور رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں کانگریس میں شامل ہوگے۔

ان کی راشٹروادی کانگریس میں شامل ہونے کی تقریب میں ریاستی صدر جینت پاٹل، تھانہ کارپوریشن کے سابق حزب مخالف لیڈرنجیب ملا،سابق اقلیتی چئیرمین نسیم صدیقی، پرمود ہندو راؤ،سابق چئیرمیں سڈکو،بھیونڈی کے صدر خالد گڈو،سیماب انور،، انور انصاری،آننند ٹھاکر ایم ایل اے،بلبیر والیہ،انل پھرتڑے،ثاقب مومن،شعاب عرب موجود تھے۔اس موقع پرتھانہ کارپوریشن کے سابق حزب مخالف لیڈرنجیب ملانے ریاستی صدر جینت پاٹل سے واضح طو ر پر کہا کہ بھیونڈی سے ایک سیٹ راشٹروادی کو دیے جانے پر پارٹی کی جیت یقینی ہے، خالد گڈو نے نامہ نگار کو بتایا کہ 1991 سے اب تک کئی بار کانگریس کو ٹکٹ دینے کے باوجود بھی کانگریس جیت نہیں پائی ہے، عوام نے تمام سیاسی پارٹیوں کو آزما لیا ہے 48 نگر سیوکوں کے باجود شہر کی جو حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے اسلیے اس مرتبہ راشٹروادی کانگریس کو بھیونڈی مغرب کی سیٹ دی جائے جسے وہ یقینا فتحیاب کرکے بھیونڈی کو ترقی کی راہ پر گامزن کریگے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading