جبکہ مہاراشٹر ینتر ماگ دھارک سنگھٹنا سمنویہ سمیتی نے 26 نومبر کومہاراشٹر کے سبھی پاور لوم بند کر نے کا اعلان کیا
بھیونڈی (شارف انصاری):- بھیونڈی کے پدمانگر علاقے میں آج سے 15 دن تک کے لئے پاور لوم کارخانوں کے بند ہونے سے پوری طرح خاموشی چھا گئی ہے ۔ کیونکہ پاور لوم میں آئی زبردست مندی، سوت کے دام میں ہوئے بے تہاشا اضافہ، انڈركاسٹ فروخت کر رہے کپڑے اور حکومت کی طرف سے بڑھائی گئی بجلی کے بل کی مخالفت میں پدمشالی سماج کے یوا منڈل کی اپیل پرمذکورہ سماج کے اس علاقے میں رہنے والے تمام پاور لوم مالکان نے 10 نومبر تک اپنے کارخانوں میں تالا لگا دیا ہے ساتھ ہی دیگر پاور لوم مالکان سے اس بندی میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ جبکہ مہاراشٹر ینتر ماگ دھارک سنگھٹنا سمنویہ سمیتی نے 26 نومبر کومہاراشٹر کے سبھی پاور لوم بند کر نے کا اعلان کیا ہے ۔
وہیں اس ضمن میں مہاراشٹر ینتر ماگ دھارک سنگھٹنا سمنویہ سمیتی کے نائب صدر فیضان اعظمی نے مذکورہ بند کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کی مذکورہ بند کرنے والے پدما شالی سماج کے لوگ مبارکباد کے مستحق ہے کی انھوں نے شہر و پاورلوم کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس تحریک کی شروعات کی ۔ اسی کے ساتھ ہی انھوں نے پورے مہاراشٹر کے پاور لوم مالکان سے اپیل کی ہے کے وہ بھی اپنی اپنی سطح پر مختلف روز اس بند کا سلسلہ شروع کریں اس سے ہماری تحریک کو بڑی مدد ملے گی۔ واضح ہو کے کپڑا صنعت زبردست مالی بحران چھا یا ہوا ہے اور یہ صنعت کساد بازاری کا شکار ہو گئی ہے۔جس کے سبب ۵۰؍ فی صد سے زائد پاور لوم کار خانے بند ہو گئے ہیں۔جبکہ ریاست میں روز بروزبجلی کی شرح میں اضافہ ہو نےسے متذکرہ صنعت پر منحصر دیگر کاروباربھی متاثر ہو گئے ہیں۔ان تمام مسائل پر غور وخوض کر نے کے لیے ینتر ماگ دھارک سنگھٹناکےروح رواں پر تاپ راو ہوگاڑے اور مہاراشٹر اسٹیٹ پائورلوم فیڈ ریشن کے صدر فیضان اعظمی نے پاور لوم صنعت کی بقاء کے لیے ریاست گیر دورہ کیا ۔ اس دوران انھوں نے پائور لوم مالکان اور پائور لوم صنعت سے وابسطہ تمام افراد سے ملاقات کی اور ان کو درپیش مسائل کو جاننے کی کوشش کی۔ مہاراشٹر کا دورہ کر نے کے بعد آپسی رائے و مشورہ سے یہ طے کیا گیا کہ ۲۴؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کوممبئی کے چیمبر آف کامرس ہال میں مہاراشٹر کےتمام پائورلوم مراکز کےلو گوں کو بلا کر ان کی ایک میٹنگ طلب کی جائے۔ اور تمام لوگوں کو درپیش مسائل کی جانکاری اور ان کی رائے جاننے کے بعد حکومت کو اس سے باخبرکیا جائے۔ اسی سلسلے میں ۲۴؍ اکتو بر ۲۰۱۸ء بروز بد ھ کو پر تاپ رائو ہو گاڑے کی صدارت میں ممبئی کے چیمبر آف کامرس ہال میںریاست کے تمام مراکز کے پائور لوم مالکان اور مذکورہ صنعت سے وابسطہ افراد کی ایک میٹنگ طلب کی گئی تھی۔
اس ضمن میں فیضان اعظمی نے بتا یا کہ مذکورہ میٹنگ میں غیر ممالک سے درآمد ہو نے والے کپڑے پر امپورٹ ڈیوٹی میں اضافہ کر نا، پائورلوم مالکان کے مسائل کے تدارک کے لیےعلیحدہ منترالیہ قائم کر نا، یارن کی قیمت میں ایک ماہ تک استحکام،یارن کی کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی پرقد غن لگانے کے لیے سخت اقدا مات،ہینک یارن کی سختی کو منسوخ کر نا،پائورلوم پیکیج کا اعلان کر نا،پلین لوم کے لیے ریزر ویشن قائم کر نا، ریاست میں یکساں بجلی کی شرح نافذ کر نا،۲۷؍ ہارس پاور سے کم پلین پاور لوم کے بجلی شرح میں سہولت دینا،پائورلوم مالکان کو ٹرم لون اور ورکنگ کیپٹل لون پر سود کی شرح میں ۷؍ فی صد کی سہولت کانفاذ،نئی پارچہ بافی صنعت پالیسی پر عمل در آوری، جیسے مطالبات پر غور کر نے کے بعد یہ طے کیا گیا کہ اگر حکومت نے ان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی توآئندہ ۲۶؍ نو مبر ۲۰۱۸ء کومہاراشٹر کے ہر پائورلوم مرکز کے شہر میں بند کا اعلان کیا جائے گا اور راستہ روکو تحریک کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ نیز جہاں جہاں پاور لوم کے مراکز ہیں وہاں کے لوگ مقامی سطح پر پرانت یا تحصیلدار کے دفتر میں اپنے اپنے احتجاجی مکتوبات پیش کریں گے۔اور ان تمام مکتو بات کی نقول ریاستی اور مرکزی حکومت کو روانہ کی جائے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ آئندہ دسمبر میں ناگپور میں اسمبلی کا جو سیشن ہو گا اس میں ریاست کے تمام دو سےڈھائی لاکھ پاورلوم صنعت سے وابسطہ افراد اور پائورلوم مالکان جمع ہو کر اسمبلی کا گھیرائو کریں گے۔مذکورہ احتجاج میں توقع کی جاتی ہے کہ کاشتکار بھی شامل ہوں گے ان سے ابھی بات چیت جاری ہے۔جبکہ پائور لوم صنعت کے ہر مر کز سے مقامی رکن اسمبلی نے بھی ہمیں تعاون دینے کا یقین دلایا ہے۔ یہ ریاست کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہو گا۔ اگر حکومت نے اس کے بعد بھی پاورلوم صنعت کی بقاء کے لیےکو ئی اقدامات نہیں کیے اور اس صنعت پر کوئی توجہ نہیں دی تو اس کے بعد انتہائی سخت قدم اٹھایا جائے گا۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انھوں نے مزید بتایا کہ ریاست کی پائور لوم صنعت پر بجلی کی شرح میں جو اضافہ کیا گیا ہے اس کے خلاف جلد ہی دہلی کے افیلٹیڈ ٹری بیونل کورٹ میں معاملہ درج کیا جائے گا ۔ اس تعلق سے دہلی کے وکلاء سے پر تاپ رائو ہو گاڑے مشورہ بھی کر کے واپس آئے ہیں۔اسی کے ساتھ انھوں نے بھیونڈی میں بجلی کی شرح میں اضافہ کے خلاف جاری تحریک کی حمایت کر تے ہو ئے کہا کہ اپنے اپنے طور سے جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں وہ اچھی بات ہے۔بجلی بل میں اضافہ کے خلاف بھیونڈی میں جو احتجاج مظاہرہ ہو رہا ہے ہم ان کے ساتھ ہیں ۔