شہریوں اور عوامی نمائندوں کو اس کی اطلاع تک نہیں ہو پائی
کارپوریشن انتظامیہ کی لاپرواہی اور غفلت کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی شہر میں انتخابات کے لئے جاری ووٹر لسٹ میں ناموں کا اندراج اور ترمیم کا کام مہینوں سے جاری تھا لیکن اس ضمن میں کوئی بھی بیداری مہم اور انتظامیہ کی جانب سے تشہیر نہ ہونے کے سبب شہری اور عوامی نمائندوں کو اس کا علم تک نہیں ہوسکا کے آج اس کام کی آخری تاریخ بھی ختم ہوگئی ۔
واضح ہو کےبھیونڈی شہر میں تمام الیکشن بوتھ سینٹروں کے بی ایل او کو ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج کے سلسلے میں اپنے اسکولوں کے بوتھ سینٹر پر بیٹھنے اور ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج کا اسپیشل آرڈر 28 اور 29 جولائی کو دیا گیا تھا جو کہ آج ختم بھی ہوگیا ۔مگر بیشتر بوتھ سینٹروں پر یا تو بی ایل او اساتذہ موجود نہیں تھے یا اگر تھے تو ان سینٹروں پر کوئی ناموں کے اندراج کے سلسلے میں آیا ہی نہیں پارلیمانی انتخابات کے فورا بعد اسمبلی الیکشن کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں اسی لئے جن اساتذہ کو پارلیمانی انتخابات میں بی ایل او بنایا جاتا ہے انھیں کو اسمبلی انتخابات میں بھی انھیں جگہوں کے لئے بی ایل او بنایا جاتا ہے جہاں وہ پارلیمانی انتخابات میں مقرر ہوئے تھے
بھیونڈی شہر میں بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہیں بے شمار نام ڈبل ہیں اور یہاں سینکڑوں مردے جنکو انتقال کئے برسوں گزر گئے مگر وہ الیکشن میں ووٹ دینے آتے ہیں ۔ ان تمام باتوں کی شکایات متعلقہ سرکاری افیسران سمیت ملک کی عدلیہ سے بھی کی جاچکی ہے۔بھیونڈی کانگریس پارٹی کے صدر شعیب گڈو نے بتایاکہ ہمیں دو دن پہلے جب تحصیلدار آفس میں گئے تھے تب معلوم ہوا کہ یہ کام جاری ہے تو پارٹی آفس میں میٹنگ بلاکر لوگو سے کہا گیا کہ اپنے اپنے طورپر سبھی علاقوں میں لوگوں کو بتائیں لیکن کچھ اور کام کرنے کا وقت ہی نہیں رہ گیا تھا ۔مگر پرانت تحصیلدار یا جو بھی اس سلسلے سے متعلق افیسران ہیں انھیں شہری سطح پر عوامی بیداری کےلئے بہت کچھ کرنا چائیے تھا مگر کچھ بھی نہیں کیا اس لئے تاریخ بڑھائی جائے اور الیکشن افیسران اور ہم سبھی شہری بھی عوامی بیداری مہم چلا کر لوگوں کو بتائیں۔ وہی بھیونڈی ڈیولپمنٹ فرنٹ کے کنوینر محمد فاضل انصاری نے بتایاکہ بھیونڈی شہر میں ہر بار ایسا ہی ہوتا آرہا ہے کہ الیکشن سے متعلقہ افراد وافیسران آخری تاریخ تک کسی طرح کا کوئی اعلان عوامی بیداری کے سلسلے میں کوئی پروگرام نہیں کیا جاتا ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے ناموں کے اندراج کی اول اور آخری تاریخوں کا قبل از وقت اعلان کیا جائے پریس کانفرنس کے ذریعے عوامی بیداری مہم چلائی جائے کارپوریشن عملہ بھی اپنی سطح پر اس جانب متوجہ ہو اور اس سے بڑھ کر بھیونڈی شہر میں ضروری ہے کہ کارپوریٹر اپنے اپنے وارڈوں میں مہم چلائیں کم از کم لوگوں کو معلوم تو پڑے اور سیاسی جماعتوں کو بھی بطور خاص اس سلسلے میں کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ سرکاری خانہ پوری اسی طرح ہوتی رہے گی کہ کاغذات اور دستاویزات میں کام ہوتا رہے گا ۔اس ضمن میں نمائندے نے جب ساڑھے تین بجے اسکول نمبر 70 کا دورہ کیا جو کہ ان کا بوتھ سینٹر ہے تو اسکول بند تالا لگا ہوا ملا ۔اس ضمن میں اسلام پورہ علاقہ وارڈ نمبر پانچ کے کارپوریٹر ملک مومن سے نمائندے نے پوچھا کہ اس سلسلے میں کیا سرگرمی انجام دی گئی تو انھوں نے کہا کہ پارٹی سطح پر بینر لگانے کی صرف بات ہوئی مگر کام نہیں کیا جاسکا اور حکومت۔ کارپویشن۔الیکشن کمیشن نے بھی اس سلسلے میں بھیونڈی شہر میں کوئی سرگرمی انجام نہیں دی ہے اس لئے ملک مومن نے مطالبہ کیا ہے کہ ناموں کے اندراج کی تاریخ بڑھائی جائے اور اس سے پہلے لوگوں کو مختلف ذرائع سے اطلاع دی جائے کہ وہ ناموں کا اندراج تصحیح اور ایڈریس کی تبدیلی وغیرہ کرانے کے لئے سینٹروں پر جو کہ اسکولوں میں ہی ہوتے ہیں وہاں آئیں ۔اس ضمن میں سب سے نمایاں رول پارٹی لیڈران کا ہونا چاہیے انھیں پارٹی آفس اور اس کے علاوہ سینٹر بنا کر لوگوں کے ناموں کا اندراج کرنا چاہیے وارڈ نمبر دس کے کارپوریٹر عارف دادا اور یوتھ کانگریس کے سابق صدر محبوب الرحمن انصاری ( ببلو) نے تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ہی لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ میں ناموں کی موجودگی کتنی اہم ہے یہ آج آسام اور بنگال والوں سے پوچھیں جہاں این آر سی کے نام پر لوگوں غیر ملکی قرار دیا جارہا ہے اور حکومت کے ذمہ داران کی طرف سے یہ بات دہرائی جاتی رہی ہے کہ پورے ملک میں این آر سی کے تحت انکوائری کرائی جائے گی ان باتوں کے باوجود اگر ہماری آنکھیں نہیں کھلیں گی تو اور کونسا موقع آئے گا اس لئے 18 برس تک کے سبھی لوگوں کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا چاہیے اساتذہ کو اس سلسلے میں بڑی سوجھ بوجھ سے کام کرنا چاہیے ۔