بھیونڈی ( شارف انصاری ):- سپریم کورٹ کے ذریعہ بابری مسجد ایودھیا معاملے کو لے کر سنائے گئے منتظر فیصلے کا مہاراشٹر کی سب سے بڑے مسلم اکثریتی علاقے پاور لوم صنعت کی نگری بھیونڈی شہر کی امن پسند عوام نے احترام کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی سنجیدگی و حساسیت کے پیش نظر بھیونڈی ڈپٹی پولیس کمشنر راجکمار شندے کے ذریعہ پورے شہر کے بڑے و اہم چوراہوں اور چپے چپے پر پولیس دستے کو تعینات کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے پورا شہر پولیس چھاونی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ تھانہ پولیس کمشنر وویک پھنسالکر بھیونڈی شہر پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے اور یہاں کے لوگوں سے بیچ بیچ میں رابطہ کر شہر کے ماحول کی جانکاری طلب کر رہے تھے۔
تھانے ایڈیشنل پولیس کمشنر سنجے این پورے ، بھیونڈی ڈپٹی پولیس کمشنر راج کمار شندے کے ہمراہ صبح سے ہی شہر میں دورہ کر پولیس کے سخت بندوبست کا معائنہ کررہے تھے۔ بھیونڈی شہر اور مرکزی پیش کمیٹی کے ممبران شہر میں گھوم گھوم کر لوگوں سے مل جل کر امن و مان قائم رکھنے اور لائ اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کی اپیل کر رہے تھے۔ اسی طرح پیش کمیٹی اور محلہ کمیٹی کے ممبران ، سیاسی جماعتوں کے لیڈران و کارپوریٹرز ، سماجی و ملی تنظیموں کے لوگ اپنے اپنے محلے و علاقوں میں گھوم کر امن و امن برقرار رکھنے میں پولیس کا تعاون کرتے نظر آئے۔
شہر کے علمائ اکرام ، مذہبی رہنماو¿ں اور سماجی شخصیات نے سپریم کورٹ کے ذریعہ آئے ایودھیا بابری مسجد پر آئے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد اور ملک کی گنگا جمونی تہذیب کو مل کر تقویت دیئے جانے کا پر زور اپیل کی ہے۔ اس تناظر میں کئی سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے اپنی خاموشی اختیار کرنے کے بعد اپنی آرائ پیش کی۔ وہی خبر لکھے جانے تک بھیونڈی میں پوری طرح سے ماحول پر امن ہے۔ اسکول و لاجوں کو احتیاط کے طور پر بند رکھا گیا ہے۔ اور کل ( آج ) اتوار کی چھٹی کے دن بھی اسکول کالج بند رہے گے۔شہر میں دکانیں و کاروبار پہلے کی طرح کھلی ہوئی ہیں۔ شہر کے سبھی علاقوں میں واقع پاورلوم کارخانے پہلے کی طرح جاری وساری ہیں۔جس میں مزدوروں کی موجودگی روز مرہ کی طرح ہے۔ شہر کے بازاروں میں بھی چہل پہل نظر آرہی ہے۔ کہیں سے بھی کسی طرح کا ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے شہر میں دور درا تک کسی بھی طرح کا خوف و دہشت کا کوئی فضا نظر نہیں آرہی ہے۔ حالات پوری طرح سے معمول پر ہے۔ جو حکومت اور محکمہ پولیس اور یہ کہاں کی عوام کے لئے بڑی راحت کی بات ہے۔ اب لوگوں کی مصروفیت و نگاہیں بھیونڈی شہر میں اتوار کے روز دوپہر بعد نکلنے والےعیدمیلاالنبی کے بڑے جلوس پر ٹکی ہوئی ہیں۔جسے لے کر پولیس انتظامیہ پہلے سے زیادہ محتاط اور چوکس ہے۔
واضح ہو کہ اقلیتی اکثریتی شہر بھیونڈی میں سپریم کورٹ کے فیصلے آنے کے بعد ہندو مسلم سماج کے لوگوں نے احترام کیا ہے۔ کئی برسوں سے چل رہے بابری مسجد و رام جنم بھومی اراضی کے لئے آئے فیصلے پر امن و مان برقرار رکھتے ہوئے فیصلے کا احترام کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں شہر کے علمائ اکرام و دانشوروں سے نمائندہ ”ورق تازہ“ نے جب بات چیت کی تو انھوں نے اپنے مذکورہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امن و امان برقرار رکھتے ہوئے شہر میں بھائی چارے کو قائم رکھنے کی پر زور اپیل کی۔
مولانا اوصاف فلاحی سابق صدر جماعت اسلامی ہند
سپریم کورٹ کے ذریعہ آئے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہمارا موقف وہی ہے جو ہمارے مرکز کا ہے۔ پھر بھی کورٹ کے فیصلے کا احترام لازمی ہے۔ یہ دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کے یہ سپریم کورٹ نے سوٹ ٹائٹل پر فیصلہ نہیں سنایا ہے بلکہ یہ ایک سمجھوتہ ہے۔ مسلمان حق مانگ رہے تھے نہ کے زمین۔شرجیل رضا جنرل سکریٹری رضا اکیڈمی
بابری مسجد کے سلسے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں ہمارا بھی وہی بیان ہے جو رضا اکیڈمی ممبئی کے چیف الحاج سعید نوری صاحب کا ہے. امن و امان قائم رکھیں. کسی بھی قسم کی افواہ پر دھیان نہ دیں. رضا اکیڈمی بھیونڈی آپ سے اپیل کرتی ہے کہ جلوس عید میلاد میں شریک ہوں. ۱۲، ربیع الاول کے دن کو "عالمی یوم امن” کے طور پر منائیں.حفیظ انیس احمد قریشی
مرکز اہل سنت دارالعلوم حبیبیہ گلشن رضا جکپال تال (رائے بریلی) کے منتظم حافظ انیس احمد قریشی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنا بے حد ضروری ہے۔ ہندو مسلم مل کر پوری دنیا میں اتحاد کی مثال پیش کریں۔اور مل جل کر ملک کے اتحاد ، سالمیت اور ترقی کے لئے کام کریںخالد شیخ ( گڈو ) صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین
مسجد کے لئے دی گئی 5 ایکڑ زمین کا ہم کیا کریں گے۔ اتنی زمین تو میں خود دان کرسکتا ہو مسجد و مدرسے کے لئے۔ آستھا کے اوپر سپریم کورٹ نہیں چلتا یہ پہلا فیصلہ سپریم کورٹ کا دکھا جو آستھا کو دیکھ کر کیا گیا ہو۔ اگر ایسا ہے تو ہر ایک شہری کو ایک بار بری کردینا چاہئے آستھا کے اوپر اس کے خاندان و اہل خانہ کا بیک گراونڈ دیکھ کر چاہئے وہ کسی بھی جرم میں مورد الزام ٹھہرایا گیا ہوں۔ اور دوبارہ گناہ میں ملوث پانے پر اسے سزا سنائی جانی چاہئے۔آستھا کے اوپر ملک نہیں چلتا اور نہ ہی قانون چلتا ہے۔ قانون اور ملک چلتا ہے ثبوتوں کی بنیاد پرعرفات شیخ صدر سماجوادی پارٹی
سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر اطمینان بخش مگر ہمیں عدلیہ کا احترام کرنا چاہئے۔ ملک میں ہندو مسلم اتحاد کو برقرار رکھنا ہے۔ مسلمانوں نے عدلیہ سے اپنا حق مانگا تھا ناکہ زمین۔ اس لئے زمین لے کر مسلمان کیا کریں گا۔ پھر بھی شہر و ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنا ہے۔