ممبئی : 24 اپریل ( ایجنسی)مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی بیان دینے سے قبل اگر صرف ایک دیڑھ ماہ پیچھے پلٹ کر دیکھ لیتے جب دہلی کا جمنا پارعلاقہ مسلمانوں کے لیے جہنم بنا دیا گیا تھا اور دو دنوں تک پولس سمیت زعفرانی غنڈوں نے بستی کی اینٹ سے اینٹ بجائی تھی تو شاید وہ یہ بیان نہیں دیتے کہ ہندوستان مسلمانوں کے لیے جنٌت ہے۔
کورونا کے حوالے سے اسلام مخالف مہم پر عرب ممالک کی تشویش پر مرکزی وزیر کے اس بیان پروحدتِ اسلامی ہند کی جانب سے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ” بھارت مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ بھکتوں لیے سورگ ہے "۔
یہاں جاری ایک بیان میں وحدتِ اسلامی ہند کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلامو فوبیا کے چلتے آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن ( او آئی سی ) کی جانب سے جب اس کا نوٹس لیا گیا، اور ایسے تمام واقعات کو گنوایا گیا جہاں جہاں ملک میں مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاو روا رکھا گیا۔اور ایسے لوگوں کو باضابط نشان زد کیا گیاجو ایسی صورتحال بنانے میں سوشل میڈیا کا باضاط منصوبہ بند طریقے سے استعمال کر رہے تھے ، تو ملک کے ذمہ داروں کو ہوش آیا۔اور وزیر اعظم کو کہنا پڑا کہ ” بیماری کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتی، اور یہ سب کو ہو سکتی ہے۔” اور وزیر موصوف کو کہنا پڑا کہ ” بھارت مسلمانوں کے لیے جنٌت ہے”۔ کیا وزیر موصوف کو دیلی کے ان واقعات میں بھی مسلمانوں کے لیے جنٌت نظر آرہی تھی؟
بیان میں طنزیہ طور پر کہا گیا کہ جھوٹ بھی بولیں تو کم از کم ایسا بولیں کہ لوگوں کو یقین آئے۔حکومت کی طرفداری کرنے والے کتنے ایسے لیڈر ہیں جھنوں نے صورتحال کو انگارہ بنا ڈالا تھا، لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ جب باہر سے تنقید شروع ہوئی تو جنٌت کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔