بی جے پی سے نکالے گئے سابق رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر اور ان کے بھائی اتل سینگر اپنے چھوٹے بھائی منوج سینگر کی آخری رسومات میں شامل ہونے کے لیے اناؤ کے پریار گھاٹ پہنچے۔ 72 گھنٹے کی پیرول ملنے کے بعد بھائی کا آخری دیدار کرنے کے لیے دہلی سے کلدیپ سینگر اور اتل سینگر کو لکھنؤ جیل سے اناؤ لایا گیا۔
Meanwhile Jamghat (festival of kites) in full swing in Lucknow. This is how they transfer Saddi (thread) to Charkhi now, earlier it was all done by hands. #Jamghat #KiteFestival #Lucknow #Patangbaz pic.twitter.com/8FpY8XdTOs
— Qazi Faraz Ahmad (@qazifarazahmad) October 28, 2019
اتوار کے روز ہی وکیلوں نے عدالت سے بھائی کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے پیرول کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر عدالت نے دونوں ملزمین کے 72 گھنٹے کی پیرول دینے کی منظوری دے دی۔ اس میں تہاڑ جیل سے لے جانے اور لانے تک کا بھی وقت شامل ہے۔
منوج سینگر دہلی میں رہ کر کلدیپ سینگر کے معاملوں کو دیکھ رہا تھا۔ رائے بریلی میں 28 جولائی کو ہوئے واقعہ میں وہ بھی ملزم تھا۔ اس حادثے میں کلدیپ سینگر پر عصمت دری کا الزام لگانے والی متاثرہ لڑکی بال بال بچی تھی اور اس کا وکیل سنگین طور پر زخمی ہو گیا تھا، جب کہ متاثرہ کی دو خاتون رشتہ داروں کی موت ہو گئی تھی۔ منوج سینگر راون کا بھکت تھا اور سبھی سے ’جے لنکیش‘ کہہ کر ملتا تھا۔ انھوں نے راون کا ایک لاکیٹ بھی پہنے ہوئے تھا۔
گزشتہ سال دونوں بھائیوں کے جیل جانے کے بعد سے ہی وہ فیملی کی دیکھ ریکھ کر رہا تھا۔ کلدیپ سینگر کو عصمت دری معاملے میں جیل میں ڈال دیا گیا، جب کہ اتل سینگر کو عصمت دری متاثرہ کے والد کے ساتھ حراست میں مار پیٹ کرنے کے الزام میں جیل بھیجا گیا۔ اس درمیان سینگر فیملی کے آبائی گھر اناؤ اور ماکھی گاؤں میں زبردست فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ آس پاس کے گاؤوں سے بڑی تعداد میں لوگ آخری رسوم میں شامل ہوئے۔
واضح رہے کہ سابق بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر پر سال 2017 میں ایک نابالغ لڑکی سے عصمت دری کرنے کا الزام ہے۔ اس کے بعد لڑکی کے والد کو جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر انھیں جیل میں ڈلوانے اور سال 2018 میں والد کی تھانہ میں پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔ اسی کیس میں کلدیپ سینگر، جے دیپ سینگر اور ان کے 2 ساتھی ابھی دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
