متحدہ عرب امارات نے ابوظہبی میں آتشزدگی کے پیچھے ڈرون حملہ کا شبہ ظاہر کیا، جبکہ یمن کے حوثیوں نے حملے کا دعویٰ کیا۔ ابوظہبی پولیس نے ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں 3 افراد کی ہلاکت اور 6 کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے۔
سوموار کو ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کے سٹوریج ٹینک کے قریب آگ لگنے کے بعد تین پٹرولیم ٹینکرز دھماکے سے پھٹ گئے، دھماکوں میں ایک پاکستانی اور دو بھارتی شہری ہلاک ہوئے، دھماکوں کی ذمہ داری یمن کی حوثی تنظیم نے قبول کر لی ہے۔
صنعتی علاقہ، مصفح، جہاں تین دھماکے ہوئے، صدارتی محل سے تقریباً 20 کلومیٹر اور امریکی، سعودی اور دیگر سفارت خانوں (بشمول ایران کے) سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
Developing: Suspected drone attack by Iranian-backed Houthi rebels on oil tankers near UAE’s Abu Dhabi airport, and on the site of Abu Dhabi airport expansion, has resulted in multiple explosions and at least three fatalities. #AbuDhabi pic.twitter.com/sUXHxNHJzE
— Alex Macheras (@AlexInAir) January 17, 2022
یر کو ابوظہبی میں مشتبہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں دھماکے ہونے اور آگ لگنے کی اطلاعات ہیں جبکہ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ’فوجی کارروائی’ کی تفصیلات جلد منظر عام پر لانے کا اعلان کیا ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز ابوظہبی پورٹ کے نزدیک آگ بھڑک اٹھی جبکہ تین آئل ٹینکرز دھاکے سے پھٹ گئے۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ابوظہبی میں آئل ٹینکرز پھٹنے کی اطلاعات کے بعد حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان حملوں کی تفصیلات جلد ہی منظرعام پر لائیں گے جن کا مقصد متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانا ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متحدہ عرب امارات پولیس کا کہنا ہے کہ ابوظہبی کے انڈسٹریل زون میں تین پیٹرول ٹینکس پھٹنے کی اطلاعات ہیں۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی نے ابوظہبی پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان واقعات میں چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ابوظہبی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بظاہر ڈرون جیسے تین اجسام دو مختلف علاقوں میں گرے اور شاید انہی کی وجہ سے دھاکہ ہوا اور آگ بھڑکی۔‘
دوسری جانب حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں فوجی آپریشنز کی تفصیلات سے جلد آگاہ کریں گے اور یہ کہ یہ آپریشن گذشتہ سات سال سے جاری جنگ میں کلیدی حیثیت کے حامل ہوں گے۔
حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سارئے نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’(باغیوں کی) مسلح افواج نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں میں متحدہ عرب امارات میں اہم عسکری آپریشنز کی بابت تفصیلات فراہم کریں گے۔‘
متحدہ عرب امارت میں ہونے والے ان مشتبہ حملوں کی عرب میڈیا بشمول ’العربیہ‘ اور ’سکائی نیوز عربیہ‘ میں رپورٹنگ کی گئی ہے۔
سکائی نیوز عربیہ کی کوریج میں ابوظہبی پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کو واضح جگہ دی گئی جبکہ العربیہ کی کوریج میں اس مشتبہ حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے امکانات کا اظہار کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 10 جنوری کو متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے حوثیوں سے تیل کی دولت سے مالا مال صوبے شبوا کا قبضہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
