بابری مسجد ، چوان اور پوار کی ربع صدی تک خاموشی کا راز – از: جاوید جمال الدین

ہندوستان اوردنیا کے کوروناوائرس کی وجہ سے جو حالات ہیں ،اخبارات کے صفحات اس سے سیاہ ہورہے ہیں ،میں نے بھی ایسا ارادہ کیا تھا،لیکن پھر ذہن میں یہ بات آئی کہ اس وائرس کے بارے میں زیادہ کچھ بتانے سے زیادہ فوکس صرف پیدا شدہ حالات پر ڈالا جائے گا،اس لیے ایک علیحدہ اور ملک کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے بارے میں کچھ لکھا جائے کیونکہ کورناوائرس کا معاملہ تو مزید 19-20دن ہمارے آس پاس رہیگا اور اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ ہم خود کو گھرمیں قید کرلیں۔اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف ،نشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) کے سربراہ اور مہاراشٹر کے مردآہن کہہ جانے والے شردپوار نے چند دنوں قبل ملک کے سابق وزیرداخلہ آنجہانی شنکر راﺅچوان ،مسلم رہنماء ڈاکٹر رفیق زکریا اوردیگر کئی لیڈروں کی صدسالہ تقریبات کے سلسلہ میں منعقد سبھی سیاسی پارٹیوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں آنجہانی ایس بی چوان کی ایک تجویزکا ذکر کیاہے، جوکہ انہوںنے وزیراعظم پی وی نرسہماراﺅ کی سربراہی میں ہونے والی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اجودھیا میں بابری مسجد کی حفاظت کے لیے پیش کی تھی ،لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکا ہے اور 6دسمبر 1992ءکو اجودھیا میں جوکچھ ہوا ،اسے سارا زمانہ جانتا ہے۔

دراصل رام مندر کی تحریک 1986میں مسجد کا تالا کھولے جانے کے بعد سے نومولود بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے لیڈرایل کے اڈوانی نے شروع کی تھی اور اس تحریک کے سبب صرف دوایم پی کی تعداد1989میں82تک پہنچ گئی ،جس کے بعد انہیں چسکا لگ گیا اور پھردوبارہ اس تحریک کو ہوا دیتے ہوئے 6دسمبر 1992کو کارسیوا کا اعلان کردیا گیا ،جس کی وجہ سے لاکھوں کارسیوک اجودھیا میں جمع ہوگئے ،انجام کار مسجد کو شہید کردیا گیا ،اور اب اس کا کوئی وجود نہیں بچا ہے۔اور وہاں رام مندر کی تعمیر کی تیاریاں عروج پر ہیں اور مسجد کے لیے عدالت کے حکم سے دورافتادہ مقام پر جگہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شردپوار اُس دور میں نرسہماراﺅ کابینہ میں وزیردفاع تھے اور ممبئی فسادات اور پھر 12مارچ 1993کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد انہیں ملک کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ ریاست مہاراشٹر اور تجارتی راجدھانی ممبئی کی بقاءاور سالمیت کے لیے دہلی سے ممبئی روانہ کردیاگیا ،اس طرح نرسمہاراﺅ نے ایک تیر سے دونشانہ لگائے ،پوار کا بڑی خوبی سے دہلی سے پتہ صاف کردیاگیا،جوکہ ان کے لیے اس سانحہ کے بعد سب سے بڑا خطرہ تھے۔خیر پوارکا دامن بھی 6دسمبر کی وارادت اور پھر ممبئی کے فسادات کے سلسلہ میں نہیں بچا تھا اور فوج کی آمد میں مبینہ تاخیر کے لیے انہیں ہی قصوروار قرار دیا جاتا رہا ہے ،کیونکہ وہ اپنے حریف سدھاکر راﺅ نائیک کو نچا دکھا نا چاہتے تھے ،جوکہ فسادات کے دوران ریاست کے وزیراعلیٰ تھے۔پوار نے 6دسمبر سے قبل ہونےوالی کابینہ کی میٹنگ کا احوال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگراُس روز شنکر راﺅچوان کی تجویزمرکزی کابینہ میںتسلیم کر لی جاتی تو بابری مسجد کوبچالیا جاتا تھا،لیکن ان کی ایک بہترین تجویز کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔

دراصل شنکرراﺅ چوان نے کابینہ میں کہا کہ بابری مسجد کو سلامت رکھنا ہے تو اترپردیش کی کلیان سنگھ حکومت کوفوری طورپربرخاست کردیا جائے اور نرسہماءراﺅ سمیت ان کے کابینی رفقاءنے ان کی تجویز کو تسلیم نہیں کیا اور نتیجتاً بابری مسجد شہید کردی گئی،ربع صدی بلکہ تقریباً تین دہائیوں بعد شردپوارکا اس بارے میں انکشاف تعجب خیز امر ہے ۔

دنیا کو اس بعد کا بھر پور پتہ ہے کہ اترپردیش کے شہر اجودھیا میں تقریباً27سال قبل ہندوتواوادی تنظیموں نے تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا ،کیونکہ ان کاماننا ہے کہ وہ بھگوان رام کی جائے پیدائش پر مندر توڑ کر تعمیر کی گئی تھی۔جس کے بارے میں ہندوستانی سپریم کورٹ نے حال میں اپنے فیصلہ میں واضح کردیا ہے کہ آثارقدیمہ کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے بنائی گئی اور نہ کسی قدیم عمارت کا ڈھانچہ پایاگیا ہے ،البتہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کے ثبوت ضرورملے ہیں ،اس کے باوجود عدالت عالیہ نے مندر کے لیے جگہ دینے کا حکم دیا۔اور ایسے قصورواروں کے خلاف کارروائی کے بارے میں کوئی اہم پہل نہیں کی گئی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مرکزی وزیر داخلہ شنکر راﺅچوان کی یوپی کی کلیان سنگھ حکومت کو فی الفور برخاست کرنے کی تجویز کو تسلیم کیوں نہیں کیا جوکہ انہوں. نے مرکزی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی تھی۔ اور اس پر عمل کیا جاتا تومسجد کو بچالیا جاتا تھا۔ جس پر ہم بعد میں بات کریں گے۔بقول شرد پوار ا ±س دورمیں بی جے پی اور اس کی ہمنوا ہندوتواوادی تنظیمیں رام مندر کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھیں، جس کی وجہ سے ملک کے حالات نے کافی سنگین ر ±خ اختیار کرلیا اور ملک میں سماجی اور سیاسی افراتفری کا ماحول بن چکا تھا۔ان حالات کو بہتر بنانے کیلئے اس وقت مرکزی کابینہ کا اجلاس منعقد کیا گیا تھااور شنکر راﺅ چوان نے کابینہ کی میٹنگ میں یہ تجویز پیش کی۔ چوان نے کابینہ کے اجلاس میں واضح طورپرکہا تھا کہ کلیان سنگھ حکومت ان ہندوانتہاپسند تنظیموں کی حامی ہے،جوکہ بابری مسجد کو گرانے اور رام مندر کی حمایت میں تحریک چلائے ہوئے ہیں، اس لیے کلیان سنگھ حکومت کی برخاستگی سے ہی حالات بہتر ہوں گے، لیکن مرکزی کابینہ نے چوان کے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی،اور یہ جواز پیش کیا گیا،” کیونکہ وہ سپریم کورٹ کو یقین دلاچکے ہیں اور حلف نامہ بھی دے چکے ہیں کہ6دسمبر 1992کو اجودھیا میں مسجد کی ہرممکن طورپر حفاظت کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے بھرپور انتظامات کیے جائیں گے،لیکن جیسا کہ گمان تھا ،ویسا ہی ہوا اورکلیان سنگھ آئین اور عدلیہ کی پروا نہ کرتے ہوئے ،اپنے وعدے سے مکر گئے اور دن کے اجالے میں بابری مسجد کو شرپسندوںکے حوالے کردیا گیا ۔جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

شردپوار کا کہنا ہے کہ شنکر راﺅچوان کی باتوں پر توجہ دی جائے اورایک نظرماضی پر ڈالی جائے تویہ محسوس ہوتا ہے کہ شنکر راﺅ کی تجویزصحیح اور معقول تھی اوراس وقت کلیان سنگھ سرکار کو برخاست کردیا جاتا تو آج بابری مسجد اپنی جگہ برقراررہتی اور اس کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اور خونریزی سے بھی بچا جاسکتا تھا۔ مرکزی کابینہ نے کلیان سنگھ کے سپریم کورٹ کو دیئے گئے حلف نامہ اورمرکزی حکومت کو دی گئی یقین دہانی پر بھروسہ کرلیا ،لیکن شردپوار آج یہ محسوس کررہے ہیں کہ شنکرراﺅچوان کی تجویز کو تسلیم کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو اترپردیش میں فوری کارروائی کرنی چاہئیے تو انہوں نے سنیئر کابینی رکن ہوتے ہوئے خاموشی کیوں اختیار کی ، جبکہ وہ ایک وزیردفاع کی حیثیت سے تیسرے نمبر کی پوزیشن پر فائز تھے اور فوج کو اُس وقت کیوں اجودھیا سے دوررکھا گیا۔جیسا کہ ہم پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں کہ ممبئی فسادات کے دوران فوج کی آمد میں مبینہ تاخیر کے لیے بھی انہیں کیوں ذمہ دار قراردیا جاتا ہے ۔

شردپوار کے سیکولرزم اور جمہوریت پر ان کے اعتماد پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا ہے ، ربع صدی کے بعد لب کشائی ،سوال کے دائرے میں آتا ہے کہ ایک اہم ترین لیڈر کی حیثیت سے انہوں نے کابینہ اور نرسہماراﺅ پر دباﺅ بنانے کے لیے کوشش کیوں نہیں کی ،اگر وہ بھی شنکرراﺅ کی تجویز کو منظور کرانے میں پیش پیش رہتے ہیں تو حالات مختلف ہوتے تھے اور ان کا سیاسی قدبھی بڑھ جاتا تھا۔

javedjamaluddin@gmail.com

9867647741

Javed Jamaluddin,

Editor In Chief ./HOD

Contact :9867647741.

02224167741

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading