لکھنؤ: اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں منگل کے روز اجودھیا تنازعہ کے مسلم فریقوں نے ایک اجلاس منعقدکیا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کی جانب سے ثالثی کے لئے بنائے گئے پینل کے سامنے اٹھائے جانے والے مسائل پرگفتگو ہوئی۔ لکھنؤ کے اسلامیہ انٹرکالج میں یہ اجلاس منعقد ہوا۔
مسلم فریق اقبال انصاری نے بتایا کہ تمام فریقوں سمیت تقریباً 50 افراد اجلا س میں موجود تھے۔ ان میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے وکیل ظفریاب جیلانی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا نعمانی، بابری مسجد کے فریق حاجی محبوب اور محمد عمر بھی شامل تھے.اطلاعات کے مطابق پینل میں شری روی روی شنکرکی موجودگی کی مخالفت بھی کی گئی ہے۔ میٹنگ میں مختلف کمیٹوں کے ذمہ داراوربابری مسجد سے متعلق اہم شخصیات کی موجودگی میں مسلم فریق متفقہ طورپرکسی نتیجے پرپہنچنا چاہتی ہے۔ ظفریاب جیلانی کا کہنا ہے کہ ہم سب نے فیصلہ کیا ہے کہ اس میٹنگ سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا جائے گا۔ یہ ہماری داخلی میٹنگ ہے، ہم اسے اپنے آپ تک محدود رکھنا چاہتے ہیں