این سی پی میں ایک بار پھر سے پھوٹ: ناگالینڈ کے تمام سات ارکانِ اسمبلی اجیت پوار کا ساتھ چھوڑ کر این ڈی پی پی میں شامل
ممبئی (آفتاب شیخ)
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) میں ایک بار پھر سے شدید سیاسی دھچکہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس بار پارٹی کے صدر اور مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے گروپ کو ناگالینڈ میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں پارٹی کے تمام سات ارکانِ اسمبلی نے ان کا ساتھ چھوڑ کر ریاست کی برسراقتدار جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی (این ڈی پی پی) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف اجیت پوار کی سیاسی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ ان کی اُس مہم کو بھی دھچکہ پہنچا ہے جس کے تحت وہ این سی پی کو دوبارہ قومی پارٹی کا درجہ دلوانا چاہتے تھے۔ ناگالینڈ میں سات اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا اجیت پوار کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا تھا، لیکن اب تمام منتخب اراکینِ اسمبلی کے بَیَک وقت پارٹی چھوڑنے سے وہاں این سی پی کا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان ارکانِ اسمبلی نے این ڈی پی پی میں شامل ہونے کے جو اسباب بیان کیے، وہی موقف اجیت پوار نے مہاراشٹر میں شرد پوار سے علیحدگی کے وقت اختیار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں رہ کر عوامی فلاح و بہبود کے کام ممکن نہیں، اس لیے اقتدار کا حصہ بننا ضروری ہے۔ اب ناگالینڈ میں ان کے اپنے ساتھیوں نے بھی یہی منطق دہرا کر براہ راست برسراقتدار جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
یاد رہے کہ کچھ برس قبل الیکشن کمیشن نے شرد پوار کی قیادت والی این سی پی سے قومی پارٹی کا درجہ واپس لے لیا تھا۔ بعد ازاں اجیت پوار اور پرفل پٹیل نے اس درجہ کو دوبارہ حاصل کرنے کی مہم شروع کی۔ اس مقصد کے لیے مختلف ریاستوں میں پارٹی کی نمائندگی اور کامیابی کو اہم سمجھا جا رہا تھا۔ ناگالینڈ کی سات سیٹیں اس سمت میں ایک بڑی امید تھیں، جو اب ہاتھ سے نکل گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ضوابط کے مطابق کسی سیاسی جماعت کو قومی پارٹی کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کم از کم چار ریاستوں میں چھ فیصد ووٹ حاصل کرنے، چار ریاستوں میں ریاستی پارٹی کا درجہ حاصل ہونے، اور ملک بھر میں لوک سبھا کی دو فیصد نشستیں جیتنے جیسے معیار پورے کرنے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ناگالینڈ جیسی چھوٹی مگر اہم ریاست میں اس نوعیت کی ٹوٹ پارٹی کے قومی منصوبے کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔
اجیت پوار کے لیے یہ لمحہ نہ صرف سیاسی طور پر ندامت کا سبب بن سکتا ہے بلکہ ان کے خیمے کے اندر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتِ حال اور قیادت پر اعتماد کے بحران کو بھی آشکار کرتا ہے۔ شرد پوار سے علیحدگی کے بعد جو راہ انہوں نے چنی، اس میں مسلسل چیلنجز ان کا پیچھا کر رہے ہیں — اور ناگالینڈ کی یہ "پھوٹ" ان کے مشن کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
