جینت پاٹل نے دل دہلا دینے والا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے حکومت سے فوری مدد کرنے کا مطالبہ کیا
بیڑ: بیڑ ضلع کے آشٹی تعلقہ میں غیرموسمی بارش نے کسانوں کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ زرعی تباہی کے ان دل دہلا دینے والے مناظر کو این سی پی (شرد پوار گروپ) کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے سوشل میڈیا پر اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں کسان تباہ شدہ فصلوں کے بیچ روتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ایک بزرگ خاتون اپنی برباد فصل کو بے بسی اور غصے کے عالم میں اپنے سر پر مار رہی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ جینت پاٹل نے حکومت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس تباہی کا حساسیت کے ساتھ نوٹس لے اور متاثرہ کسانوں کو فوری معاوضہ دے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ بیڑ ضلع کے آشٹی تعلقہ کی یہ تصاویر اور ویڈیوز دل کو چھو لینے والی اور بے حد تکلیف دہ ہیں۔ کسانوں نے قرض لے کر اپنی کھیتیاں سنواری تھیں، لیکن فصل پکنے کے آخری مرحلے پر آسمانی آفت نے سب کچھ برباد کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے یہی حالت مہاراشٹر کے تقریباً تمام علاقوں میں دیکھی جا رہی ہے، جہاں غیرموسمی بارشوں نے ہر کسان کی کمر توڑ دی ہے۔
جینت پاٹل نے حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس زرعی بحران پر توجہ دے، نقصانات کا تخمینہ لگائے اور متاثرہ کسانوں کو فوراً مالی امداد فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے وقت پر قدم نہیں اٹھایا تو کسانوں کا نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی بے حسی جاری رہی تو ریاست میں کسانوں کی خودکشیاں اور ہجرت کی لہر ایک بار پھر زور پکڑ سکتی ہے۔
ویڈیو میں نظر آنے والے مناظر میں کسان ٹماٹر کی برباد شدہ فصلوں کے درمیان کھڑے رو رہے ہیں، اور ایک ضعیف خاتون درد سے نڈھال ہو کر سڑتے ہوئے ٹماٹر اپنے سر پر مار رہی ہے۔ یہ مناظر صرف کسانوں کی پریشانی نہیں بلکہ حکومت کی بے حسی کا عکس بھی ہیں، جس پر جینت پاٹل نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کب تک کسانوں کو محض وعدوں اور اعلانات سے بہلایا جائے گا۔
این سی پی کے دیگر رہنماؤں نے بھی کسانوں کے اس بحران کو سنگین قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایک جامع پیکیج کا اعلان کرے، بصورت دیگر این سی پی کسانوں کی حمایت میں ریاست بھر میں احتجاج کی راہ اپنائے گی۔ واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں مہاراشٹر کے کئی اضلاع میں کپاس، پیاز، ٹماٹر اور سویابین جیسی فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں، اور کسانوں کو سخت مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
