ناندیڑ: (ورق تازہ نیوز) ناندیڑ میں سی اے اے، این آرسی، این پی آر کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے میں یکم فروری کو ایس آئی او مہاراشٹر صدر سلمان احمد نے تقریر کی تھی۔ کھلے عام گولی مارو جیسے نعرے بازی کرنے والوں کے خلاف آنکھیں بند کرنے والے گودی میڈیا کو سلمان احمد کی تقریر میں قابل اعتراض باتیں نظر آگئیں اوراس نے سلمان احمد کی تقریر کے کچھ حصے کو لے کر واویلامچانا شروع کردیاہے، جس کے بعد ناندیڑ بی جے پی کے چند ذمہ داران کی جانب سے ناندیڑ پولیس سے شکایت کی گئی۔اس پر اتوارہ پولیس اسٹیشن میں سلمان احمد کے خلاف معاملہ درج کیاگیاہے۔جس کے بعد آج ان کی گرفتاری عمل میں آئی.
گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر سلمان احمد کو رہا کرانے کیلئے سوشل میڈیا صارفین نے ReleaseSalmanAhmad نامی ٹرینڈ چلانا شروع کردیا.
ایک اور مسلم نوجوان گرفتار، زہریلے میڈیا ٹرائل کا ایک اور شکار، سلمان احمد نوجوان نظریاتی ایکٹوسٹ ہیں، انہیں میڈیا کے نفرت انگیز ٹرائل کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے، یہ بھارت کے سسٹم کا متعصبانہ استحصال اور بالکل ناقابل برداشت ہے. سلمان احمد کو رہا کیا جائے
سمیع اللّٰہ خان
Do our police need a primary course in Language OR in Fundamentals of justice System OR just some common sense…. #ReleaseSalmanAhmad
— Syed Sadatullah Hussaini (@sadathusaini) February 5, 2020

Another victim of hateful media trial. Salman Ahmad is a young ideological activist & MH leader of @sioindia. His speech was edited by media & false case was filed against him. This is an unfair exploitation of country’s system.
I stand with Brother Salman.#ReleaseSalmanAhmad pic.twitter.com/aBQZOM7F1E
— Samiullah Khan (@SamiKhan_CPJ) February 5, 2020
Without an iota of doubt, I stand completely with my brother Salman. Blessed to have such courageous and brave leader !
This targeted harassment and defaming social activists by #GodiMedia should stop, we strongly condemn this.#ReleaseSalmanAhmad #releasesalmanahmed pic.twitter.com/5itG6Rmyvg
— Raafid Shahab (@RaafidShahab) February 5, 2020

میرے بیان کو میڈیا غلط طریقہ سے پیش کرکے گمراہی پھیلارہی ہے: سلمان احمد (صدرایس آئی او)
اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او)کے مہاراشٹرصدر سلمان احمد نے اپنے وضاحتی بیان میں کہاہے کہ الیکٹرانک میڈیا ان کے بیان کوتوڑمروڑ کر اورانتہائی غلط طریقہ سے پیش کررہی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ میرے پورے بیان میں میں نے کوئی غیردستوری بات نہیں کہی ہے۔ہماری لڑائی دستورکے دائرے میں ہے ،ہم دستور بچانے کیلئے لڑائی لڑرہے ہیں تب ہم کیسے دستورکے خلاف بات کہے سکتے ہیں۔ میڈیا میری تقریر میں سے کچھ حصہ دکھلاکر گمراہی پھیلانے کی کوشش کررہاہے۔سلمان احمد نے خود پر لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ جو لوگ دستور کو ختم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ شاہین باغ جیسی تحریک جڑپکڑسکے ، من مانے الزامات لگاکر عوام کو ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔