ایران نے نومبر 2021 سے جیل میں قید نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو طبی بنیادوں پر تین ہفتوں کے لیے رہا کر دیا ہے۔ یہ بات ان کے وکیل نے سوشل میڈیا پر بتائی۔
مصطفیٰ نیلی نے ایکس پر کہا، "معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کے مشورے پر سرکاری وکیل نے نرگس محمدی کے خلاف جیل کی سزا تین ہفتوں کے لیے معطل کر دی اور انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔”
محمدی کے اہلِ خانہ اور حامیوں نے فوری طور پر احتجاج کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا کہ تین ہفتوں کی طبی رخصت کافی نہیں تھی۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا، "نرگس محمدی کی سزا میں 21 دن کی معطلی ناکافی ہے۔ ہم ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی یا کم از کم ان کی رخصت تین ماہ تک بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
گذشتہ چوتھائی صدی کے دوران ایران میں سزائے موت کے وسیع پیمانے پر استعمال اور خواتین کے لیے لازمی ضابطۂ لباس کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں 52 سالہ محمدی پر بار بار مقدمہ چلایا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔
انہوں نے گذشتہ عشرے کا بیشتر حصہ سلاخوں کے پیچھے گذارا ہے۔نیلی نے کہا، "تین ہفتے قبل رسولی نکالنے اور ہڈیوں کی پیوند کاری کے بعد ان کی جو جسمانی حالت ہے، اس کی وجہ سے انہیں رہائی دی گئی ہے۔ رسولی بہت سخت نہیں تھی لیکن انہیں ہر تین ماہ بعد چیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے۔”
جون میں محمدی کو "ریاست کے خلاف پروپیگنڈے” کے الزام میں مزید ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ان کی طرف سے اس مقدمے کی سماعت عوامی سطح پر کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی جس کے بعد انہوں نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا۔
ستمبر میں جیل سے لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے ایران میں خواتین پر "تباہ کن جبر” کی مذمت کی۔
یہ خط ان کی فاؤنڈیشن نے ملک گیر احتجاج کی دوسری برسی کے موقع پر شائع کیا تھا جو ایک ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی زیرِ حراست موت کے بعد شروع ہوئے تھے۔ مہسا امینی کو ضابطۂ لباس کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
محمدی نے 2023 میں امن کا نوبل انعام جیتا جو بنیادی طور پر ایران میں سزائے موت کے خلاف ان کی مہم کے لیے دیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا ہے کہ ایران ہر سال چین کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں سزائے موت دیتا ہے جس کے لیے کوئی قابلِ اعتماد اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔