ناندیڑ : (ورق تازہ نیوز) شہر کے معروف ایڈوکیٹ و سماجی کارکن جناب ایڈوکیٹ ضمیر پٹھان نے ملک میں بڑھتی مذہبی منافرت اور ذات پات کے خلاف 5 اور 6 دسمبر کو ناندیڑ ضلع کلکٹر آفس کے سامنے پانی کے ٹینکر میں بیٹھ کر دو روزہ ستیہ گرہ بھوک ہڑتال کے اعلان کیا ہے۔

انہوں نے ایک خط ملک کے صدر وزیر اعظم اور ضلع کلکٹر کو پیش کیا ہے جس،میں مختلف تجاویز پیش کی ہیں تاکہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے اور مذہبی منافرت کے بیج نہ بوئے جائیں۔ ان کی درخواست میں مختلف تجاویز شامل ہیں جیسے مذہبی مقامات کی کھدائی اور تحقیق پر روک، میڈیا پر کنٹرول، عدلیہ کے لئے اصلاحات، انتخابی نظام میں شفافیت اور غیر جانبدار خدمات کی حوصلہ افزائی۔
ایڈوکیٹ ضمیر پٹھان نے کہا کہ سماج میں ہر مذہب اور فرقہ کے لوگوں کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے اور کسی بھی مذہبی یا ذات پات کے بنیاد پر تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بنیاد مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارہ پر ہے اور ہمیں ان اصولوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔

انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ مذہبی مقامات کی تحقیق صرف اسی وقت کی جائے جب قومی مفاد ہو اور متعلقہ کمیونٹی کی رضا مندی ہو۔ انہوں نے میڈیا کے لئے ایک کمیونیکیشن کنٹرول بورڈ قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ مذہبی مباحثوں کو قوم مخالف سرگرمیوں کے طور پر سمجھا جائے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے والے چینلز کو ٹیکس میں رعایت دی جائے۔
عدلیہ کی اصلاحات کے لئے، ایڈوکیٹ ضمیر پٹھان نے ہر ضلع عدالت میں ‘نیایپال’ کا عہدہ قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ عوام اپنی شکایات وکلا کے بغیر دے سکیں۔ انہوں نے مذہبی تنازعات پر نیایپال کی رائے لازمی کرنے کی بھی تجویز دی۔

انہوں نے انتخابی نظام میں شفافیت کے لئے جمہوری کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی اور ذات اور پیسے کی بنیاد پر انتخاب لڑنے والے امیدواروں کو ۱۰ سال کے لئے نا اہل قرار دینے کی بھی تجویز دی۔ خفیہ رائے شماری کی رکاوٹوں کو ختم کرنے اور فاتح امیدواروں کی ذات اور علاقے کی معلومات کے اعلان نہ کرنے کی بھی تجویز دی تاکہ اس سے عدم مساوی ترقی نہ ہو۔
آخر میں، انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ سماجی ہم آہنگی کمیشن قائم کیا جائے اور ایسے واقعات کی اس کے ذریعے جانچ کی جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مذہبی منافرت کا بیج خود یا اپنے سیاسی مفاد کے لئے نہ بوئیں اور اپنی ضمیر کے خلاف نہ جائیں۔ آنے والی نسلوں کے لئے ملک کی محبت میں جو کچھ کیا جا سکتا ہے وہ کریں۔