تہران۔امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ حملوں کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے ایران میں ’بڑے پیمانے پر اہم جنگی کاررائیاں‘ شروع کر دی گئی ہیں۔ اُدھر پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور یو اے ای میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔
اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ تہران میں اُن کے حملوں کا ہدف وہ مقامات تھے جہاں اعلیٰ ایرانی سیاسی اور سکیورٹی شخصیات جمع تھیں۔
ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے وضاحت کی کہ ایران میں آج ہونے والی کارروائی کی تیاری گذشتہ کئی ماہ کے دوران کی گئی تھی، جس میں ملک کی انٹیلیجنس ایجنسی نے اس بات پر توجہ مرکوز کی تھی کہ وہ موقع کب آئے گا جب ایران کی حکومتی، سیاسی و سکیورٹی قیادت اکٹھی ہوتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے مزید واضح کیا کہ رات کے بجائے صبح کے وقت حملہ کرنے کا فیصلہ ’ٹیکٹیکل سرپرائز‘ کے طور پر کیا گیا جس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اب اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہی ہے۔ایران میں ایک مقامی گورنر نے ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کو بتایا ہے کہ ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے ضلع میناب میں لڑکیوں کے پرائمری سکول پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ہرمزگان کے گورنر محمد ردمہر نے ارنا کو بتایا کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں’شجرہ طیبہ‘ نامی لڑکیوں کا سکول نشانہ بنا۔ گورنر کے مطابق اس حملے میں 63 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

ایران کے محکمہ تعلیم کے ترجمان علی فرہادی نے ارنا کو بتایا کہ اتوار کے روز سکول کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
بی بی سی اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ یاد رہے کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو ویزوں کا اجرا نہیں کیا جاتا ہے جس کے باعث خبروں کی آزادانہ تصدیق میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں، ایران میں اس وقت تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ بھی ہے۔