امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ حملوں کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے ایران میں ’بڑے پیمانے پر اہم جنگی کاررائیاں‘ شروع کر دی گئی ہیں۔ اُدھر پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور یو اے ای میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔
خلاصہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے میں امریکہ بھی شامل ہے اور امریکہ نے ایران میں ’بڑے پیمانے پر اہم جنگی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ ایران پر آج کے حملوں کے بعد اسرائیل کے خلاف ’بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے‘ شروع کر دیے گئے ہیں۔
ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر بھی جوابی میزائل حملے کیے ہیں۔ بحرین، ابوظہبی اور قطر میں میزائل حملے ہوئے ہیں جبکہ ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ابوظہبی میں ملبہ گرنےسے ایک ایشیائی نژاد شخص ہلاک ہو گیا ہے۔
خطے میں سلامتی کے خدشات کے پیش نظر دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کے لیے اپنے فضائی آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، متعدد ایئرلائنز نے یا تو اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں یا انھیں دوسرے راستوں پر موڑ دیا گیا ہے۔
پیشکش: منزہ انوار، دانش حسین، اعظم خان
ایران کے سرکاری میڈیا کی اعلیٰ حکام اور آرمی چیف کی ہلاکت کی خبروں کی تردید,بی بی سی مانیٹرنگ
ایران کے سرکاری میڈیا نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن کے مطابق آج اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فصائی حملے میں ملک کے سینیئر سیاسی حکام اور آرمی چیف مارے گئے ہیں۔
ایرانی صدر کے ایگزیکٹو ڈپٹی نے ایکس پر لکھا کہ ’صدر مسعود پزشکیان محفوظ ہیں۔‘
صدر کے بیٹے یوسف پزشکیان نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’ان کو قتل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔‘
ایرانی فوج نے اپنے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی کی ہلاکت کی تردید کی ہے اور فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
واضح رہے کہ اسرائیل ڈیفینس فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے تہران میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات جمع تھیں۔
قبلاسرائیلی حملے میں اعلیٰ ایرانی سیاسی و سکیورٹی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیلی فوجاسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ تہران میں اُن کے حملوں کا ہدف وہ مقامات تھے جہاں اعلیٰ ایرانی سیاسی اور سکیورٹی شخصیات جمع تھیں۔
ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے وضاحت کی کہ ایران میں آج ہونے والی کارروائی کی تیاری گذشتہ کئی ماہ کے دوران کی گئی تھی، جس میں ملک کی انٹیلیجنس ایجنسی نے اس بات پر توجہ مرکوز کی تھی کہ وہ موقع کب آئے گا جب ایران کی حکومتی، سیاسی و سکیورٹی قیادت اکٹھی ہوتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے مزید واضح کیا کہ رات کے بجائے صبح کے وقت حملہ کرنے کا فیصلہ ’ٹیکٹیکل سرپرائز‘ کے طور پر کیا گیا جس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے۔