ایران بہت سخت حملہ‘ کرنے کی کوشش نہ کرے، اگر ایسا ہوا تو امریکہ ’ایسی طاقت سے جواب دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘

پام بیچ کی بادلوں سے ڈھکی اور بونداباندی والی صبح میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اپنے مار-اے-لاگو والی رہائش گاہ میں موجود ہیں۔ ان کے عوامی شیڈول میں کوئی تقریب درج نہیں، اور امکان ہے کہ صحافیوں کو وہ صرف اس وقت نظر آئیں گے جب وہ دوپہر کے بعد واشنگٹن کے لیے ایئر فورس ون پر سوار ہوں گے۔

ٹرمپ رات گئے تک ٹروتھ سوشل پر سرگرم رہے۔

مقامی وقت کے مطابق تقریباً ایک بجے انھوں نے ایک سخت بیان جاری کیا جس میں ایران کو خبردار کیا کہ وہ ’بہت سخت حملہ‘ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکہ ’ایسی طاقت سے جواب دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘

یہ جارحانہ زبان جزوی طور پر داخلی سیاسی عوامل کی عکاسی کرتی ہے۔ اب تک ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ایران میں کارروائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اگر امریکی فوجی ہلاکتیں ہوئیں یا جنگ طویل اور پیچیدہ شکل اختیار کر گئی تو یہ تاثر مشکل میں پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کے کچھ حامی، خاص طور پر ان کے ’میگا‘ حلقے میں پہلے ہی اس امکان پر تحفظات ظاہر کر چکے ہیں کیونکہ انھوں نے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ امریکہ کو ایسی طویل جنگوں سے بچائیں گے۔

یہ واضح نہیں کہ صدر کب براہِ راست خطاب کریں گے، لیکن جب بھی کریں گے، غالب امکان ہے کہ وہ اس تاثر کو دبانے کی کوشش کریں گے کہ امریکہ کسی غیر یقینی مدت کے لیے قوم سازی کے عمل میں الجھ سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading