شہریت قانون کی مخالفت کرنے والے شیطان اور کیڑے: دلیپ گھوش
مغربی بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے جمعہ کے روز شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں کی تنقید کرتے ہوئے ایک بار پھر متنازعہ بیان دے دیا۔ انھوں نے ہاؤڑہ میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو دانشور حضرات شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں وہ شیطان اور کیڑے کی طرح ہیں۔‘‘
West Bengal BJP Chief Dilip Ghosh in Howrah: The intellectuals who are opposing #Citizenshipamendmentact are spineless, they are devils and parasites. (17.1.20) pic.twitter.com/t6SxIHkzca
— ANI (@ANI) January 18, 2020
اتر پردیش: ضمانت پر چھوٹے نابالغ سے چھیڑ چھاڑ کے ملزم نے متاثرہ کی ماں کو مار ڈالا
اتر پردیش کے کانپور میں دل دہلا دینے والا ایک واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں پر نابالغ سے چھیڑ چھاڑ کے ملزمین نے متاثرہ کی ماں کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ واقعہ میں پانچ ملزمین کے شامل ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ پولس نے چار ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے۔
نابالغ سے چھیڑ چھاڑ کا معاملہ 2018 کا ہے۔ اس معاملے میں پولس نے کیس درج کر 6 ملزمین کو گرفتار کیا تھا۔ حال ہی میں ملزمین کو ضمانت مل گئی تھی۔ پولس نے بتایا کہ ضمانت پر آزاد ہونے کے بعد ملزمین متاثرہ کے گھر میں گھسے اور دھمکی دیتے ہوئے کیس واپس لینے کو کہا۔ اس معاملے میں متاثرہ کی ماں اہم گواہ تھیں۔ متاثرہ کنبہ نے کیس واپس لینے سے انکار کیا تو ملزمین نے انھیں بری طرح پیٹا۔
Anant Dev Tiwari, SSP: They then attacked the two witnesses in the case. In the attack, a woman was seriously injured who succumbed to her injuries. Four people have been arrested & efforts are on to nab other accused. 2/2 (17.1) https://t.co/9w49rtjD4g
— ANI UP (@ANINewsUP) January 18, 2020
اتر پردیش: یوگی راج میں پھر نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری
اتر پردیش کے متھرا میں نابالغ لڑکی سے اجتماعی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ کے والد کی شکایت پر کیس درج کر پولس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
Mathura: A minor girl allegedly gangraped in Surir area. A Dubey,Circle Officer says 'A case is being filed on the basis of a complaint by victim's father. The victim has been sent for a medical examination, the accused will be arrested soon.' pic.twitter.com/LTy3W8beR6
— ANI UP (@ANINewsUP) January 18, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو