اہم خبر: شوپیاں شوٹ آوٹ میں دو مشتبہ ملی ٹینٹ ہلاک

شوپیاں شوٹ آوٹ میں دو مشتبہ ملی ٹینٹ ہلاک

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے مولو چھترا گام میں گزشتہ رات دیر گئے جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان ہونے والے شوٹ آوٹ میں دو جنگجو مارے گئے۔+

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ فوج کی 44 راشٹریہ رائفلز نے شوپیاں کے مولو چھترا گام میں ایک ناکہ بٹھایا تھا۔ جب ناکے پر ایک نجی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تو اس میں موجود جنگجوئوں نے فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ طرفین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو مشتبہ جنگجو مارے گئے جن کی شناخت اور تنظیمی وابستگی معمول کی جارہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مشتبہ جنگجوئوں کی لاشیں ڈسٹرکٹ پولیس لائنز شوپیاں منتقل کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شوٹ آوٹ کے مقام سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مولو چھترا گام میں مختصر تصادم کے بعد وہاں مقامی لوگ بالخصوص نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور فورسز پر پتھرائو کرنے لگے۔ فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر ضلع شوپیاں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کرادی ہیں۔

خواتین کو بس اور میٹرو میں مفت سفر کی سوغات، آج اعلان کریں گے کیجریوال

دہلی میں آئندہ سال کے اوائل میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر عام آدمی پارٹی ایک اہم اعلان کرنے جا رہی ہے۔ دہلی حکومت خواتین کو میٹرو اور ڈی ٹی سی بسوں میں مفت سفر کا تحفہ دے گی۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال آج دوپہر کو باضابطہ طور پر اس کا اعلان کریں گے۔

دہلی حکوومت دہلی میٹرو اور ڈی ٹی سی بسوں میں خواتین کو کرایہ سے نجات دلانے کے لئے مفت سفر کی سوغات دیگی جس سے انہیں عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال کی طرف راغب کیا جا سکے۔ خواتین کو مفت سفر دینے میں ڈی ایم آر سی کو ہونے والے نقصان کو دہلی حکومت برداشت کرے گی۔

بسوں اور میٹروں میں کل 33 فیصد تک خواتین ہوتی ہیں اس کے مطابق میٹرو میں خواتین کے مفت سفر پر تقریباً ایک ہزار کروڑ کا سالانہ خرچ ہوگا جبکہ تقریباً 200 کروڑ روپے کا خرچ بسوں کے حوالہ سے حکومت پر ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق خواتین کے دہلی میٹرو اور ڈی ٹی سی بسوں میں اس منصوبے کو لاگو کرنے میں حکومت ہر 1200 کروڑ روپے سالانہ کا بوجھ پڑے گا۔

دہلی حکومت نے اس منصوبے کو لاگو کرنے سے قبل دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور ان سے پوچھا کہ اس منصوبہ کو کس طرح لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے مفت پاس یا پھر کوئی دیگر متبادل متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

– Source بشکریہ قومی آواز بیورو—

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading