اہم خبر: جموں و کشمیر ایشو پر پاکستانی پارلیمنٹ میں ہنگامہ، مشاہداللہ نے فواد کو کہا ’کتا‘

پاکستان: جموں و کشمیر ایشو پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، مشاہداللہ نے فواد کو کہا ’کتا‘

جموں و کشمیر سے متعلق ہندوستانی حکومت کے فیصلے کے بعد پاکستانی پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ بدھ کے روز پاکستانی پارلیمنٹ میں جوائنٹ سیشن کے دوران پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل-نواز) کے رکن پارلیمنٹ مشاہداللہ خان نے عمران خان حکومت میں وزیر فواد حسین کو ’کتا‘ کہہ دیا۔ دراصل مشترکہ اجلاس کے دوران مشاہداللہ خان جموں و کشمیر پر اپنی بات رکھ رہے تھے جب فواد خان نے بیچ میں انھیں روکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد دونوں لیڈروں کے درمیان بات اتنی بڑھ گئی کہ مشاہداللہ نے فواد سے کہا کہ ’’تم بے شرم ہو۔ میں نے تجھے گھر پر باندھ رکھا تھا لیکن کتے تم یہاں آ گئے۔‘‘ مشاہداللہ کے اس بیان پر فواد چودھری غصے کی حالت میں ان کی طرف بڑھے، لیکن تبھی بقیہ اراکین پارلیمنٹ نے انھیں روک لیا۔ ان سب کے درمیان چیئرمین نے متنازعہ بیان ریکارڈ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔


بجنور میں 3 ٹرکوں کے درمیان خوفناک ٹکر، 5 افراد ہلاک، کئی زخمی

بجنور: اترپردیش میں بجنور کے شہر کوتوالی علاقے میں تین ٹرکوں کے درمیان ہونے والی ٹکرمیں 5 افراد کی موت ہو گئی اور پانچ زخمی ہو گئے۔ پولس سپرنٹنڈنٹ سنجیو تیاگی نے جمعرات کو یہاں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ کوتوالی علاقے میں بدھ کی رات تقریباً 11 بجے کالی مدن چوراہے پر یکے بعد دیگرے تین ٹرک آپس میں ٹکرا گئے۔ اس حادثہ میں پانچ افراد کی موت ہو گئی جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کواسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت رگھوبير (55) پرمود (28) جانی (25) راہل (28) اور 29 سالہ پنکج کی شکل میں کی گئی ہے۔ مرنے والوں میں چارافراد ضلع دھام پور کے رہنے والے ہیں۔

جموں و کشمیر: دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد عیدالاضحیٰ سے متعلق گورنر کا بڑا بیان

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد گورنر ستیہ پال ملک نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جو عیدالاضحیٰ سے متعلق ہے۔ گورنر کے حکم کے مطابق جموں و کشمیر کے جو طلبا دوسری ریاستوں میں پڑھائی کر رہے ہیں اور عید کے موقع پر گھر پہنچنا چاہتے ہیں، ان کی مدد کی جائے۔ علاوہ ازیں جو طالب علم گھر نہیں پہنچ سکتے ان کے لیے جشن کا انعقاد کرانے کے لیے ایک ایک لاکھ روپے نامزد افسران کو دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

گورنر نے افسران کے ساتھ اس سلسلے میں ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں جمعہ کی نماز اور عیدالاضحیٰ کی تیاریوں پر گفتگو ہوئی۔ میٹنگ میں افسران نے گورنر کو بتایا کہ عید کے موقع پر جانور خریدنے کے لیے وادی میں الگ الگ مقامات پر منڈی بنائی جائیں گی۔ ساتھ ہی راشن کی دکانوں، میڈیکل اسٹورس اور کھانے پینے کی جگہوں کو بھی اس موقع پر کھولنے کا حکم دیا گیا ہے۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading