شاہین باغ مظاہرین کی امت شاہ سے کوئی میٹنگ طے نہیں، وزارت داخلہ
شاہین باغ مظاہرین کی طرف سے کل 16 فرورو کو 2 بجے ملاقات کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس پر وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امت شاہ کے ساتھ مظاہرین کی کل کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔‘‘
Ministry of Home Affairs (MHA) sources on protestors at Shaheen Bagh claiming to meet Union Home Minister Amit Shah tomorrow at 2 pm to discuss issues related to #CitizenshipAmendmentAct: No such meeting is scheduled with the Union Home Minister Amit Shah for tomorrow. https://t.co/9sNTUoHvqj pic.twitter.com/F6Tcmr4imD
— ANI (@ANI) February 15, 2020
دہلی: تمل ناڈو بھون سے جامعہ طلبا کو پکڑ کر مندر تھانہ لے گئی پولس
چنئی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں پر پولس لاٹھی چارج کے خلاف آج جامعہ کے طلبا نے دہلی واقع تمل ناڈو بھون کا گھیراؤ کرنے پہنچی، لیکن وہاں موجود پولس نے انھیں حراست میں لے لیا۔ جامعہ طلبا کو مندر مارگ تھانہ میں رکھا گیا ہے جہاں سبھی طلبا سی اے اے اور دہلی پولس کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ مندر مارگ تھانہ میں جامعہ طلبا کی نعرہ بازی کا ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں وہ چنئی میں پولس لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ دہلی پولس کے خلاف بھی نعرے بازی کر رہے ہیں۔
شاہین باغ کی دادیاں 16 فروری کو امت شاہ سے کریں گی ملاقات!
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق شاہین باغ کی دادیاں دیگر کچھ مظاہرین کے ساتھ کل یعنی 16 فروری کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بوقت دوپہر ملاقات کریں گی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات مظاہروں کی وجہ سے پیدا مشکل صورت حال کا حل نکالنے کے لیے ہوگی۔
دہلی: چنئی پولس لاٹھی چارج کے خلاف ’تمل ناڈو بھون‘ کا گھیراؤ کر رہے طلبا حراست میں
چنئی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہو رہے مظاہرہ پر پولس لاٹھی چارج کے خلاف آج جامعہ کو آرڈنیشن کمیٹی نے دہلی واقع تمل ناڈو بھون کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ تمل ناڈو بھون گھیراؤ کرنے پہنچے جامعہ کے طلبا کو پولس نے حراست میں لے لیا ہے اور موصولہ اطلاعات کے مطابق انھیں نامعلوم مقام پر لے جایا جا رہا ہے۔
بنگلورو: سدارمیا سمیت کئی کانگریس لیڈران کو پولس نے حراست میں لیا
کرناٹک کے بیدر بغاوت معاملہ میں ریاستی حکومت پر پولس کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کے دفتر تک مارچ نکال رہے کرناٹک کے سینئر کانگریس لیڈروں سدارمیا، دنیش گنڈو راؤ، رضوان ارشد اور کے. سریش کو پولس نے حراست میں لے لیا ہے۔
Karnataka: Congress leader Siddaramaiah has also been detained by the police near Race Course Road, Bengaluru. https://t.co/IhmsmLZ3gD pic.twitter.com/auQCKQU8IL
— ANI (@ANI) February 15, 2020
لگاتار متنازعہ بیان دینے والے گری راج سنگھ کو بی جے پی صدر جے پی نڈّا نے کیا طلب
مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے گزشتہ دنوں کئی نفرت انگیز اور متنازعہ بیان دیے جنھیں اپوزیشن پارٹی لیڈران نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان متنازعہ بیانات کی وجہ سے بی جے پی کو کافی شرمندگی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اب پارٹی قومی صدر جے پی نڈّا نے گری راج سنگھ کو طلب کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد گری راج سنگھ ان سے ملاقات کریں گے۔
Bharatiya Janata Party President JP Nadda summons Union Minister Giriraj Singh over his recent controversial remarks. (file pics) pic.twitter.com/hbuGLzh3Pg
— ANI (@ANI) February 15, 2020
عدالت میں بم اندازی کرنے کے الزام میں لکھنؤ بار ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری گرفتار
لکھنؤ کورٹ میں دیسی بم سے حملہ کرنے کے الزام میں لکھنؤ بار ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری کو پولس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملے میں 2 وکیل زخمی ہوئے تھے۔
Lucknow: Police have arrested Lucknow Bar Association's General Secretary Jitu Yadav last night in connection with a crude bomb explosion in Lucknow Court on 13 February. Two lawyers were injured in the incident.
— ANI UP (@ANINewsUP) February 15, 2020
سابق آئی اے ایس شاہ فیصل کے خلاف پی ایس اے کے تحت معاملہ درج
سابق آئی اے ایس اور جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کے سربراہ شاہ فیصل کے خلاف پی ایس اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پی ایس اے لگایا گیا تھا۔ دونوں لیڈروں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔
Shah Faesal, former civil servant and chief of Jammu & Kashmir People's Movement (JKPM), booked under Public Safety Act. (file pic) pic.twitter.com/Mh67ReKcnI
— ANI (@ANI) February 15, 2020
جموں و کشمیر: ہیرا نگر سیکٹر میں پاکستان کی گولی باری میں کئی گھر تباہ
بی ایس ایف ذرائع نے خبر دی ہے کہ جموں و کشمیر کے ہیرا نگر سیکٹر میں آج صبح پاکستان کی جانب سے گولی باری کی گئی ہے۔ پاکستانی رینجرس نے آس پاس کے گاؤں کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ گولی باری میں کچھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔ حالانکہ کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے پاکستان کو منھ توڑ جواب دیا گیا ہے۔
BSF Sources: Pakistan resorted to unprovoked firing & heavy shelling early morning today in J&K's Hiranagar sector. Pak rangers targeted residential areas of nearby villages. Some houses damaged, no human loss or injury so far. A search party is assessing damage in affected areas pic.twitter.com/fklRGItUSa
— ANI (@ANI) February 15, 2020
جے پور: شہید اسمارک پر شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ میں شامل ہوئے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت
پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ راجستھان میں بھی کئی مقامات پر دھرنا و مظاہرہ ہو رہا ہے۔ اس درمیان جے پور کے شہید اسمارک پر بڑی تعداد میں لوگ ان سیاہ قوانین کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بھی جمعہ کے روز اس دھرنا میں حصہ لیا اور لوگوں کے ساتھ سی اے اے کے خلاف آواز بلند کی۔
Jaipur: Rajasthan CM Ashok Gehlot today took part in a protest against Citizenship Amendment Act, National Population Register and National Register of Citizens, at Shaheed Samark. pic.twitter.com/jXShgR8k1e
— ANI (@ANI) February 14, 2020
اتر پردیش: ہاپوڑ میں اغوا طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری!
اتر پردیش میں جرائم کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ تازہ معاملہ ہاپوڑ کا ہے جہاں ایک ایم بی اے طالبہ کا کچھ غنڈوں نے اغوا کر لیا اور پھر اس کی مبینہ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق طالبہ کے والد نے بیٹی کے غائب ہونے پر پولس میں شکایت درج کروائی اور اس کا الزام چار لوگوں پر لگایا۔ پولس نے جب طالبہ کے موبائل لوکیشن سے تلاشی مہم شروع کی تو وہ زخمی حالت میں بلند شہر سے برآمد ہوئی۔ طالبہ کو اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے اور پولس نے ملزمین کو ڈھونڈنا بھی شروع کر دیا ہے۔
An MBA student was allegedly abducted and gang-raped by four men. Police says,"the victim was rescued by Police from Siyana in Bulandshahr. Case has been registered & investigation is underway" (14.2) pic.twitter.com/QIvIaHjfCr
— ANI UP (@ANINewsUP) February 15, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو