حیدر آباد:11ڈسمبر۔(ایجنسیز)مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی کے چھوٹے بھائی اوراپنی تقریروں کی وجہ سے سرخیوں میں رہنے والے اکبرالدین اویسی مسلسل پانچویں باراسمبلی الیکشن جیت گئے ہیں۔ اکبرالدین اویسی نے چندریان گٹا سیٹ سے شاندارجیت درج کی ہے، اس طرح سے وہ پانچویں بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کی 119 اسمبلی سیٹوں میں سے ا?ٹھ سیٹوں پرمجلس اتحاد المسلمین نے امیدواراتارے تھے، جس میں 7 امیدواروں کے جیتنے کا امکان ہے۔مجلس اتحاد المسلمین کے 4 امیدواراب تک فاتح قراردیئے جاچکے ہیں جبکہ 3 امیدوارسبقت بنائے ہوئے ہیں اوران کے جیتنے کا امکان ہے۔ حالانکہ مجلس اتحاد المسلمین نے اس بار8 امیدوارانتخابی میدان میں اتارے تھے، جس میں ایک امیدوارکو شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

تلنگانہ میں ٹی آرایس واضح اکثریت کے ساتھ اپنے دم پردوبارہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔اکبرالدین اویسی متنازعہ بیان دینے کے سبب کئی بارسرخیوں میں رہتے ہیں، لیکن موجودہ بحث ان کے مسلسل پانچویں جیت کو لے کرہورہی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب الیکشن کے دوران انہوں نے حدیں توڑتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی کے لئے غلط الفاظ کا استعمال کردیا تھا۔ویسے حال ہی میں جذباتی تقریرکرنے، دو فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کو ختم کرنے اورحکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزام میں تین ایف ا?ئی ا?ردرج کی گئی ہیں۔ اویسی تلنگانہ اسمبلی میںآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آ ئی ایم) کے ممبراسمبلی ہیں اورپارٹی کے ایوان میں لیڈر ہیں۔ وہ پارٹی کے سب سے عظیم لیڈرمرحوم سلطان صلاح الدین اویسی کے چھوٹے بیٹے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی اسد الدین اویسی حیدرا?باد سے پارٹی کے ممبرپارلیمنٹ ہیں۔اکبرالدین اویسی نے 2007 میں فتویٰ جاری کیا تھا کہ اگر سلمان رشدی اورتسلیمہ نسرین (گستاخ رسول) کبھی حیدرآباد آتے ہیں تو ان کی گردن کاٹ دی جائے۔ جنوری 2013 میں پولیس میں ان کے خلاف تین ایف ا?ئی ا?ر درج کی تھیں۔ 42 سالہ مسلم رہنما اکبرالدین اویسی چندریان گٹا، حیدرا?باد سے پارٹی کے 1999 میں پہلی بارممبراسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ان کے اہل خانہ میں ان کی بیوی شبینہ فرزانہ ہیں اوروہ ایک بیٹے اورایک بیٹی کے والد ہیں۔ اکبرالدین اویسی ان کے والد کے ذریعہ مسلمانوں کے فلاح وبہبود کے لئے بنائے گئے اویسی اسپتال کے منیجنگ ڈائریکٹربھی ہیں۔