اورنگ آباد زنجیری احتجاج کے 10 دن مکمل : موجودہ حالات آر ایس ایس کی 100 سالہ نفرت بھری محنت کا نتیجہ : ضیاء الدین صدیقی

اورنگ آباد :(شہاب مرزا)شاہین باغ دہلی طرز پر اورنگ آباد میں گزشتہ 10 دن سے جاری زنجیری احتجاج میں مسلم نمائندہ کونسل کے صدر ضیاء الدین صدیقی نے ” آر ایس ایس ایک تجزیہ” عنوان پر تفصیلی خطاب کیا.

ضیاء الدین صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا جو حالات ہم دیکھ رہے ہے وہ آر ایس ایس کی سوسالہ نفرت بھری محنت کا نتیجہ ہے یہ پورے ملک میں طبقاتی نظام رائج کرنا چاہتے ہیں کہ اس کے لئے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں.

1857 کی بات ہے جب صلیبی انگریزحکومت سلطان صلاح الدین ایوبی سے ہوئی شکست کا انتقام مسلمانوں سے لے رہی تھی دہلی کی جامع مسجد انگریز سپاہیوں کا اسطبل بن چکی تھی بہادر شاہ ظفر کو رنگون میں قید کر دیا گیا تھا دہلی کے ہر درخت پر بیس سے پچیس مسلمانوں کی لاشوں لٹکتی تھی اور آزادی کے علمبردار انگریزی استعماریت سے سینہ بہ سینہ لوہا لے رہے تھے جبکہ دوسری طرف ویدک دھرم کے علمبردار برہمن انگریزوں کی غلامی میں مصروف تھے یہ لوگ اپنے مذہبی سرمایہ دارانہ نظام کو نافذ کرنے کی غرض سے چار طبقاتی نظام یعنی منوازم کو رائج کرنے کے لیے انگریزوں کی مدد سے جی توڑ کوشش کر رہے تھے مسلمان، بدھیسٹ انکی نفرت کی سیاست کا خام مال تھے اس خام مال کو تپتی بھٹی میں ڈال کر ہہندوتوادی اقتدار کا بت کھڑا کیا گیا تھا اور اسکی آڑ لے کر برہمنی ویدک دھرم کے سخت گیر اصولوں کو نرم انداز میں پیش کرنے اور چار طبقاتی نظام کو جمہوریت کے لیبل لگانے کی کوشش کی گئی ہے.

جب متنازعہ چار طبقاتی نظام کی مخالفت ہوئی تو گاندھی کا قتل کر کر کے منوازم کو عیاں کیا اسی طرح سے آج حکومت شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والے شہریوں کو کچلنا چاہتی ہے لیکن تعداد اور حوصلہ دیکھ کر ان احتجاج کرنے والوں پر الزامات لگا رہی ہے جب حکومت کو اندازہ ہوگیا کہ یہ ڈرنے اور تھمنے والے نہیں ہیں

ضیاء الدین صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے مسلمانوں کو ایک موقع فراہم ہوا ہے کہ پورے نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اگر اس تحریک میں برادران وطن کا ہمیں ساتھ ملتا ہے تو یہ ایک نعمت ہے لیکن مسلمانوں کو خود پہل کرنا ہوگا اسی کے ساتھ ہی ہمیں بحیثیت قوم اپنا اجتماعی محاسبہ کرنا ہوگا ذاتی مسلکی نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک امت بنکر سوچنا ہوگا اللہ کے گھر کو آباد کرنا ہوگا اپنے گناہوں سے توبہ کرنی ہوگی اور خالق کائنات سے تمام امیدیں وابستہ کرنی ہوگی

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading