اورنگ آباد: زرعی مال کو قانونی پیچیدگیوں سے فوری نجات دلائی جائے » کلکٹر آفس کے روبرو شیتکری سنگھٹنا کا ریاست گیر احتجاج شروع

اورنگ آباد:(جمیل شیخ): حکومت مہاراشٹر کی جانب سے زرعی مال کو تمام قوانین سے آزاد کرنا چاہئے اور مارکیٹ سیز سے ہمیشہ کے لئے ختم کیا جائے اس مطالبہ کو لے کر آج کلکٹر آفس کے روبرو شیتکری سنگھٹنا ی جانب سے ریاست گیر احتجاج کیا گیا۔ ایگریکلچر مارکیٹ کمیٹی کے زرعی مال کے بازار پر پوری طرح کنٹرول رکھنے کے لئے ایک سرکاری مشنری ہے۔

قانوناً عمل میں لائے گئے اس نظام کے ذریعہ خریدی ذخیرہ اندوزی فروختگی ٹرانسپورٹیشن خریداروں اور پروسیس انڈسٹریز پر کنٹرول رکھنا اور پابندی عائد کرنا ممکن ہے اس بات کی وضاحت شیتکری سنگھٹنا کے مراٹھواڑہ صدر کیلاش توا رنے کی او رکہا کہ زرعی مال کے لئے مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جس طرح کا کنٹرول رکھا گیا ہے اس سے نجات دلانا ضروری ہے۔ کیونکہ آج تک مارکیٹ کمیٹی نے کسانو ںکو کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی۔ مثلاً یارڈ میں زرعی مال کا وزن گریڈنگ ریڈنگ مال کا بھرنا اور اترنا وغیرہ جیسی کاروائیوں سے کسان پریشان ہیں اور حمالی میں کسان کے سر پر ماتھاڑی بورڈ کا قانون بھی نقصاندہ ہے۔

یہاں زرعی مال کھلا ہونے کی وجہ سے چوریوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ کہیں اڑت گیٹ پر مال آنے سے پہلے کسان سے مارکیٹ کمیٹی فیس بچانے کے نام پر پیسہ اینٹھتی ہے اور جو مال مارکیٹ کمیٹی میں آتا ہے اس کی چھینا جھپٹی سے کسان حیران پریشان ہیں کبھی کبھی نیلامی میں کم قیمت لگانے کی وجہ سے ان کسانو ںکو اپنا مال یا تو پھینکنا پڑتا ہے یا پھر اسی بھائو میں بیچنا پڑتا ہے اس لئے کسانوں کی سہولت کے لئے اس نظام کی جدید کاری کے لئے خانگی حلقہ میں سرمایہ کاری ہونا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ اگر زرعی مال کو قانونی پیچیدگیوں سے آزاد او رسیز نہیں کیا گیا تب تک اس طرح کی غیر قانونی حرکت بند نہیں ہوسکتی۔ مذکورہ معاملے کو لے کر 15 جنوری کو وزیر محصول چندر کانت پاٹل اور پرکاش مہتہ کی موجودگی میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں سنگھٹنا صدر انیل گھنوٹ ابھمنیو شیلا سیمارنروڑے ودیگر موجود تھے۔ انہو ںنے زرعی مال کو قانونی پیچیدگیوں سے نجات اور سیز کے سلسلہ میں جلد سے جلد جی آر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading