اورنگ آباد :آئی پی ایس قیصر خالد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں استقبال و آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد

اورنگ آباد :28ڈسمبر(جمیل شیخ):انسپکٹر جنرل آف پولس آئی پی ایس قیصر خالد کی ادبی خدمات کے اعزاز میں ۶۲ دسمبر ۸۱۰۲ءکو بھارت رتن مولانا عبدالکلام آزاد ریسرچ سینٹر، مجنوں ہل اورنگ آباد میں مہاراشٹر مسلم عوامی کمیٹی اور ادارہ ادبِ اردو کی جانب سے ایک عظیم الشان شہری استقبال منعقد کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں اعتراف خدمات و شہری استقبال پروگرام میں شہر اورنگ آباد کے سینکڑوں لوگوں نے اپنی موجودگی درج کروا کر پروگرام کو کامیابی کی معراج پر پہنچادیا۔پروگرام کی صدارت اورنگ آباد شہر کے پولس کمشنر چیرنجیوی پرساد نے کی۔ پی۔ ایف ریجینل کمشنر ہدایت اللہ وارثی ، ڈپیوٹی کلکٹر مونیکا سنگھ ، الیاس کرمانی ، اسلم خان، سلیم صدیقی ، خان شمیم مہمان خصوصی کے طورپر موجود تھے ۔پروگرام کی شروعات میں خان شمیم خان نے صاحبِ اعزاز کی شان میں نظم پیش کی۔ خالد سیف الدین نے ان کا طویل تعارف پیش کیا۔ قیصر خالد کی خدمت میں اسٹیج پر موجود بہ وقار شخصیات کے دستِ مبارک سے سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ گلپوشی ، گل باری اور گلہائے عقیدت سے منتظمین و شہریان اورنگ آباد نے قیصر خالد کا عظم الشان استقبال کیا۔ شہر کے مختلف تعلیمی ادارہ اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی اس موقع پر ان کا استقبال کیا ۔

شہرِ اورنگ آباد کے مشہور و معروف ناول نگار نور الحسنین کی ناول تِل کُل ایَّام لا نجہ اس بزم میں رسمِ اجراءعمل میں آیا۔ آفتاب خان شمیم کا تیار کردہ موبائیل ایپ ٹریک انٹلی جینس کا بھی اس موقع پر افتتاح عمل میں آیا۔ الیاس کرمانی نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے قیصر خالدکی مثال لے کر محنت اور مشقت سے اپنی منزل کو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے مسابقتی امتحانات میں کامیابی کےلئے محنت کرنی چاہئے۔ قیصر خالد نے کہا کہ انسان کی کامیابی تین چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ امید ، محنت اور شکر اللہ ۔ انسان کے اندر اپنی غلطیوں کی تلافی کرنی کی عادت ہونی چاہئے۔ اپنی انا کو ختم کرکے مزاج میں انکساری ہی کامیابی کی سیڑھی ہے ۔ صدرِ محفل پولس کمشنر عالی جناب چیرنجیوی پرساد صاحب نے کہا کہ قیصر خالد کی شخصیت ہو بہو بھگوت گیتا کے شلوک ” نیشکرم کرم کرنا ، پھل کی اِچھّا نہ کرنا‘ کی طرح ہے ۔ یہ بخوبی اپنی خدمات پولس محکمہ میں انجام دے رہے ہیں اور بے حد عمدہ شاعر بھی ہے ۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض خان مقیم خان نے ادا کئے اور اظہار تشکر سہیل ذکی الدین نے پیش کی۔

آل انڈیا محفل مشاعرہ کا افتتاح پونہ سے تشریف لائے ڈپوٹی کلکٹر مونیکا سنگھ نے کیا۔ صبا گنجوی ، فاروق شمیم ، فہیم صدیقی ، ڈاکٹر ظہیر انصاری ، اختر جمال ، یوسف دیوان ، مہتاب عالم ، اطہر شکیل ، ساگر تر پاٹھی ، عرفا ن جعفری او ر قیصر خالد نے اپنے کلام سامعین کے گوش گزار کئے ۔ دیر رات تک اورنگ آباد کی با ذوق سامعین نے عالمی شہرت یافتہ شاعروں کے عمدہ کلام سے محظوظ ہوتی رہی ۔ داد و تحسین سے اجلاس بارہا گونج اُٹھا ۔ مشاعرہ کی نظامت اطہرشکیل نے کی اور اظہار تشکر ظہیر الدین صدیقی نے ادا کیا ۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں خالد سیف الدین ، اسلم خان، عبدالرﺅف ، عابد قادری ، سید فرحاج ، محمد انور اور عدنان کرمانی کی محنت اور کاوش شامل تھی۔

اس تقریب میں اعتراف خدمات و شہری استقبال پروگرام میں شہر اورنگ آباد کے سینکڑوں لوگوں نے اپنی موجودگی درج کروا کر پروگرام کو کامیابی کی معراج پر پہنچادیا۔پروگرام کی صدارت اورنگ آباد شہر کے پولس کمشنر چیرنجیوی پرساد نے کی۔ پی۔ ایف ریجینل کمشنر ہدایت اللہ وارثی ، ڈپیوٹی کلکٹر مونیکا سنگھ ، الیاس کرمانی ، اسلم خان، سلیم صدیقی ، خان شمیم مہمان خصوصی کے طورپر موجود تھے ۔پروگرام کی شروعات میں خان شمیم خان نے صاحبِ اعزاز کی شان میں نظم پیش کی۔ خالد سیف الدین نے ان کا طویل تعارف پیش کیا۔ قیصر خالد کی خدمت میں اسٹیج پر موجود بہ وقار شخصیات کے دستِ مبارک سے سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ گلپوشی ، گل باری اور گلہائے عقیدت سے منتظمین و شہریان اورنگ آباد نے قیصر خالد کا عظم الشان استقبال کیا۔ شہر کے مختلف تعلیمی ادارہ اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی اس موقع پر ان کا استقبال کیا ۔

شہرِ اورنگ آباد کے مشہور و معروف ناول نگار نور الحسنین کی ناول تِل کُل ایَّام لا نجہ اس بزم میں رسمِ اجراءعمل میں آیا۔ آفتاب خان شمیم کا تیار کردہ موبائیل ایپ ٹریک انٹلی جینس کا بھی اس موقع پر افتتاح عمل میں آیا۔ الیاس کرمانی نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے قیصر خالدکی مثال لے کر محنت اور مشقت سے اپنی منزل کو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے مسابقتی امتحانات میں کامیابی کےلئے محنت کرنی چاہئے۔ قیصر خالد نے کہا کہ انسان کی کامیابی تین چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ امید ، محنت اور شکر اللہ ۔ انسان کے اندر اپنی غلطیوں کی تلافی کرنی کی عادت ہونی چاہئے۔ اپنی انا کو ختم کرکے مزاج میں انکساری ہی کامیابی کی سیڑھی ہے ۔ صدرِ محفل پولس کمشنر عالی جناب چیرنجیوی پرساد صاحب نے کہا کہ قیصر خالد کی شخصیت ہو بہو بھگوت گیتا کے شلوک ” نیشکرم کرم کرنا ، پھل کی اِچھّا نہ کرنا‘ کی طرح ہے ۔ یہ بخوبی اپنی خدمات پولس محکمہ میں انجام دے رہے ہیں اور بے حد عمدہ شاعر بھی ہے ۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض خان مقیم خان نے ادا کئے اور اظہار تشکر سہیل ذکی الدین نے پیش کی۔

آل انڈیا محفل مشاعرہ کا افتتاح پونہ سے تشریف لائے ڈپوٹی کلکٹر مونیکا سنگھ نے کیا۔ صبا گنجوی ، فاروق شمیم ، فہیم صدیقی ، ڈاکٹر ظہیر انصاری ، اختر جمال ، یوسف دیوان ، مہتاب عالم ، اطہر شکیل ، ساگر تر پاٹھی ، عرفا ن جعفری او ر قیصر خالد نے اپنے کلام سامعین کے گوش گزار کئے ۔ دیر رات تک اورنگ آباد کی با ذوق سامعین نے عالمی شہرت یافتہ شاعروں کے عمدہ کلام سے محظوظ ہوتی رہی ۔ داد و تحسین سے اجلاس بارہا گونج اُٹھا ۔ مشاعرہ کی نظامت اطہرشکیل نے کی اور اظہار تشکر ظہیر الدین صدیقی نے ادا کیا ۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں خالد سیف الدین ، اسلم خان، عبدالرﺅف ، عابد قادری ، سید فرحاج ، محمد انور اور عدنان کرمانی کی محنت اور کاوش شامل تھی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading