اورنگ آباد:(جمیل شیخ): بقایہ بلوں کی ادائیگی کے معاملے پر کانٹریکٹرس نے ایکبار پھر میئر نند کمار گھوڑیلے کا گھیراﺅ کیا اور انھیں انصاف دلانے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ عہدیداران اور میونسپل افسران کی درخواست پر میونسپل گتہ دار ڈرینج واٹر سپلائی اسٹریٹ لائٹ مینٹینس اور دیگر کام ایمرجنسی مکمل کرکے انھیں شہریان کے غصہ سے نجات دلاتے ہیں۔ مگر اے ایم سی انتظامیہ نے ان ٹھیکیداروں کے بل جنوری ۷۱۰۲ سے ادا نہیں کئے۔ اس کے برعکس راستوں کے تعمیری کام اور دیگر بڑے بڑے پروجیکٹس کرنیوالے بڑے کانٹریکٹرس کو کروڑوں کے بل ادا کردئے۔ جس کے سبب مینٹنس کاکام کرنے والے گتہ داروں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے وہ بقایہ بلو ںکی ادائیگی کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں اے ایم سی انتظامیہ نے دیوالی کے تہوار پر بھی ان کانٹریکٹر س کو نظر انداز کرکے دیگر بڑے گتہ داروں میں ۸۱ کروڑ روپیوں کے بل ادا کئے جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو ان لوگوں نے مینٹننس کے کام بند کردئے اور میونسپل کارپوریشن دفتر پر انصاف کے مطالبہ پر زنجیری ہڑتال کی جو میئر کی مداخلت اور ڈی ایم سی کے تحریری تیقن پر پانچ دنوں کے بعد ختم کردی گئی۔ اس کے باوجود میونسپل انتظامیہ انھیں بل ادا کرنے میں ٹال مٹول کررہا ہے۔ لہذا گزشتہ دنوں ان کانٹریکٹرس نے میئر میونسپل کمشنر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر کا گھیراﺅ کیا اور ان سے بلوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جس پر میونسپل کمشنر نے ان سے وعدہ کیا کہ سینئریٹی کے مطابق مرحلہ وار وہ سبھی گتہ داروں کے بل ادا کروائینگے مگر گزشتہ دنوں جو بل ادا کئے گئے ان میں پھر ایکبار ان کانٹریکٹروس کو نظر انداز کرتے ہوئے کارگزار اکاﺅنٹس آفیسر مہاویر پاٹنی نے ایک ہی گتہ دار کو مینٹننس کے نام پر ایک کروڑ ۳۱ لاکھ روپئے ادا کئے جس پر یہ کانٹریکٹرس مزید مشتعل ہوگئے۔ کارگزار چیف اکاﺅنٹ آفیسر کی کارکردگی پر ہاﺅز لیڈر وکاس جین اور اپوزیشن لیڈر ضمیر احمد قادری نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بلوں کی ادائیگی میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کا الزام لگایا جس کے بعد ایڈیشنل میونسپل کمشنر شری کرشن بھال سنگھ رخصت پر چلے گئے اور ان کانٹریکٹرس کے بلو ںکی ادائیگی کا معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑگیا لہذا انصاف کے مطالبہ پر آج ان کانٹریکٹرس نے میئر کا گھیراﺅ کیا جس پر میئر نے ان لوگوں کے سامنے ہی میونسپل کمشنر سے فون پر بات کی اور انھیں ان کانٹریکٹرس کے بل ادا کرنے کی ہدایت دی۔