گجراتی والدین کی بیٹی پریتی پٹیل برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بورس جانسن کی کابینہ میں وزیر داخلہ ہوں گی۔ پریتی سے قبل برطانیہ کے وزیر داخلہ پاکستانی نژاد ساجد واجد تھے، اب وہ نئی کابینہ میں وزیر خزانہ ہوں گے۔ برصغیر سے تعلق رکھنے والی دو اہم شخصیات کے پاس برطانوی حکومت کی سب سے اہم ذمہ داریاں ہیں یعنی یہ کہنے میں کوئی غلط نہیں ہوگا کہ برطانیہ میں اب اس ملک کے لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت کی باگ ڈور ہے جن پر کبھی برطانیہ نے راج کیا تھا۔ پریتی اور ساجد کا تعلق غیر منقسم ہندوستان سے ہے۔
پریتی پٹیل اس سے قبل کئی اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہیں۔ سال 2016 میں وہ انٹرنیشنل ڈیولیپمنٹ کی وزیر بنائی گئی تھیں۔ سابق وزیر اعظم تھریسا مے سے اختلافات کے بعد انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ دراصل سال 2017 میں نجی چھٹیوں پر پریتی پٹیل فیملی کے ساتھ اسرائیل گئی تھیں۔ پٹیل نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی افسران سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کو لے کر انہوں نے کوئی بھی معلومات برطانوی حکومت یا اسرائیل میں برطانوی سفارت خانہ کو نہیں دی تھی جس کے بعد کافی ہنگامہ ہوا تھا۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد برطانوی سیاست میں اس مدے کو لے کر کافی ہنگامہ مچا تھا۔ اپنی پارٹی میں انہوں نے اچھا کام کیا لیکن تنازعہ سامنے آنے کے بعد انہیں استعفی دینا پڑا تھا۔ سال2017 میں پریتی پٹیل کو انٹر نیشنل ڈیولیپمنٹ کی وزارت سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ وہ سب سے پہلے سال 2010 میں رکن پارلیمنٹ بنی تھیں۔ بریگزٹ کی پر زور حامی پریتی پٹیل سال 2014 میں ٹریزری کی وزیر بنی تھیں اور 2015 کے عام انتخابات کے بعد انہیں دوبارہ وزیر روزگار بنایا گیا تھا۔
47 سالہ پریتی کی پیدائش لندن میں ہوئی، ان کے والدین کا تعلق گجرات سے ہے اور کچھ وقفہ کے بعد ان کے والدین یوگانڈہ چلے گئے تھے۔ پریتی نے پڑھائی ویٹ فورڈ اسکول فار گرلس سے کی تھی اور ویلئم ہیگ کے کنزرویٹو پارٹی کا رہنما بننے کے بعد وہ پارٹی میں آ گئی تھیں اور 1997 سے 2000 تک وہ پارٹی میں ڈپٹی پریس سکریٹری تھیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
