اناؤ واقعہ: سڑک حادثہ کے وقت برساتی پہنے شخص کون تھا، کس سے ہو رہی تھی بات؟

اناؤ عصمت دری واقعہ کی شکار لڑکی کے ساتھ ہوئے سڑک حادثہ نے لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ متاثرہ کے گھر والوں نے تو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا گواہ رائے بریلی کے پاس کا وہ پورا گاؤں ہے جہاں یہ حادثہ ہوا۔ سب گاؤں والے کہہ رہے ہیں کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا۔ متاثرہ کی فیملی کا کہنا ہے کہ وہ ہمیں کیس واپس لینے کے لیے لگاتار دھمکا رہے تھے۔ وہ ہمارے گھر آ کر کہتے تھے کہ تمھاری پوری فیملی کو ختم کر دیں گے۔ انھوں نے ایسا کر دیا۔ فیملی کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ سب سینگر اور ان کے آدمیوں نے کروایا ہے۔

اگر اس پورے حادثے پر نظر ڈالیں تو کئی ایسی باتیں ہیں جس کی تہہ میں جانے پر سازش کی بو نظر آتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ جس ٹرک سے یہ حادثہ ہوا وہ سڑک پر غلط ڈائریکشن سے آ رہا تھا۔ اتنا ہی نہیں، ٹرک کا نمبر پلیٹ بھی چھپا ہوا تھا۔ متاثرہ کے ساتھ پولس والوں کا نہ ہونا بھی شبہ پیدا کرتا ہے۔

اسی درمیان یہ بات بھی پھیل رہی ہے کہ متاثرہ کی کار کا برساتی (رین کوٹ) پہنے ایک شخص پیچھا بھی کر رہا تھا۔ آس پاس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ لگاتار فون پر کسی کو واقعہ کی جانکاری دے رہا تھا۔ اتنا ہی نہیں، ٹرک سے ٹکر کے بعد اس نے حادثے کا ویڈیو بھی بنایا۔ بعد میں جب لوگوں نے اس کی مخالفت کی تو وہ شخص جائے واقعہ سے بھاگ گیا۔ حالانکہ ابھی تک یہ صاف نہیں ہے کہ برساتی پہنے وہ شخص کون تھا اور وہ فون پر کسے حادثے کی جانکاری دے رہا تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس واقعہ کو سازش کے تحت انجام دیا گیا ہو، جیسا کہ متاثرہ فیملی والے کہہ رہے ہیں۔ کہیں وہ ثبوت کے طور پر تو ویڈیو نہیں بنا رہا تھا۔ اس طرح کی کئی باتیں ہیں جو اس حادثہ پر سوال کھڑے کر رہی ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading