اورنگ آباد 17 جون:(ورق تازہ نیوز)سابق رکن پارلیمان امتیاز جلیل نے ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دورا ن دلت سما ج کے لیے بار بار’ہریجن* لفظ کا استعمال کیا، جسے دلت برادری کو حقیر دکھانے کے ارادے سے کی گئی حرکت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بیان کے خلاف ریاست کے مختلف پولیس تھانوں میں ایٹراسٹی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور اب جلیل کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
اس مطالبے کے تحت 23 جون کو کرانتی چوک سے بھٹکل گیٹ تک ایک بڑا احتجاجی مورچہ نکالا جائے گا، جس کی معلومات ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ناانصافی و ظلم مخالف کرتیکریا سمیتی** کی جانب سے **ارون بورڈے نے ایک پریس کانفرنس میں دی۔دولت کھرات اورملند شیلوکے نے مزید بتایا کہ وزیر نگراںسنجے شیرساٹھ کے زمین خرید معاملے پرامتیاز جلیل نے ایک پریس کانفرنس میں بات کی تھی۔ اس میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہرجن سماج کی زمین کسی اور کو منتقل کرنے کے لیے مجاز اتھارٹی کی منظوری ضروری ہے۔
اسی جملے میں استعمال کیے گئے لفظ’ہرجن‘ پر امبیڈکری رہنماؤں نے اعتراض جتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت دونوں کے مطابق اب ’ہرجن‘ لفظ کو بند کیا گیا ہے، اس کا استعمال قانوناً، سماجی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔اگرچہ جلیل نے یہ وضاحت دی کہ سرکاری کاغذات میں یہی لفظ درج تھا، مگر دولت کھرات کا کہنا ہے کہ پرانے دستاویزات پڑھنے سے قبل اس میں موجود نازک الفاظ سے خبردار کرنا ضروری ہوتا ہے۔
دلت کاروباریوں کو ’گینگ‘ کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ احتجاج کسی سیاسی پارٹی کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ دلت برادری کے احترام اور عزت کی بحالی کے لیے ہے۔ قانون کے مطابق جلیل کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے۔”