ابوظہبی (ورقِ تازہ نیوز) متحدہ عرب امارات نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلی مرتبہ 6G ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ مکمل کرلیا ہے۔ اس تجربے میں 145 گیگا بٹ فی سیکنڈ (Gbps) کی ریکارڈ رفتار حاصل کی گئی۔ یہ ٹرائل یو اے ای کی ٹیلی کام کمپنی ای اینڈ (e&) نے نیویارک یونیورسٹی، ابوظہبی کے اشتراک سے کیا۔ اس تجربے میں ٹیرا ہرٹز (THz) فریکوئنسی استعمال کی گئی، جو انتہائی تیز رفتار کنیکٹیوٹی فراہم کرتی ہے۔
6G ٹیکنالوجی نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار میں زبردست اضافہ کرے گی بلکہ اسمارٹ شہروں، خودکار ٹرانسپورٹ اور ڈیجیٹل جدت کو بھی نئی رفتار دے گی۔
5G کے مقابلے میں کئی گنا تیز رفتار
اس کامیاب تجربے کی سب سے بڑی خصوصیت 145 Gbps کی رفتار رہی، جو موجودہ 5G نیٹ ورک سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس کی مدد سے ڈیٹا ٹرانسفر انتہائی تیزی سے ہوگا، جس سے انٹرنیٹ کے استعمال میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔
ای اینڈ یو اے ای کے ایکٹنگ چیف ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن آفیسر مروان بن شاکر نے کہا کہ یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ یو اے ای ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے صفِ اول ممالک میں شامل ہے۔ ان کے مطابق 6G کی بدولت ہم لوگوں، کاروباروں اور شہروں کو جوڑنے کے انداز کو مکمل طور پر بدل سکیں گے۔
6G ٹیکنالوجی کی خصوصیات
6G صرف تیز رفتار انٹرنیٹ تک محدود نہیں ہے۔ اس میں سیٹلائٹس اور ہائی الٹیٹیوڈ پلیٹ فارمز کا استعمال ہوگا، جس سے ریگستانی، سمندری اور فضائی علاقوں میں بھی بغیر کسی رکاوٹ کے کنیکٹیوٹی فراہم کی جا سکے گی۔
یہ ٹیکنالوجی خودکار گاڑیوں اور روبوٹس کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ 6G میں بلٹ اِن سینسنگ فیچر ہوگا، جو ریڈیو سگنل کو ریڈار کی طرح استعمال کرے گا۔ اس سے گاڑیوں اور روبوٹس کو اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔