اسکول بسوں کے ضوابط آئندہ تعلیمی سال سے نافذ
طلبہ کی حفاظت اور والدین کے مالی استحصال پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات متوقع
ممبئی (آفتاب شیخ)
آئندہ تعلیمی سال سے نجی اسکولوں کی بسوں کے لیے نئے ضوابط متعارف کرائے جائیں گے تاکہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور والدین کے مالی استحصال کو روکا جا سکے۔ اس مقصد کے تحت ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک کی سربراہی میں منعقدہ ایک اجلاس میں ریٹائرڈ ٹرانسپورٹ افسر جتیندر پاٹل کی صدارت میں ایک رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جسے آئندہ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ریاست بھر میں ہزاروں اسکول بسیں نجی تنظیموں کے ذریعے چلائی جاتی ہیں، جن کے بارے میں والدین نے شکایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر زائد فیس وصول کر رہی ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ اسکول بس فیس پورے سال کے بجائے صرف دس ماہ کے لیے ہونی چاہیے اور اسے ماہانہ بنیاد پر وصول کیا جانا چاہیے۔
وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے کہا کہ نئی پالیسی میں اسکول بسوں میں جی پی ایس سسٹم، سی سی ٹی وی کیمرے، فائر اسپرنکلرز اور ایمرجنسی پینک بٹن جیسے حفاظتی اقدامات لازمی قرار دیے جائیں گے۔ نیز، بسوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا متحد کنٹرول بھی ہوگا تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
اس حوالے سے 2011 میں مدن کمیٹی کی تجاویز کو بھی زیر غور لایا جائے گا، تاکہ طلبہ کے سفری انتظامات میں بہتری لائی جا سکے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے واضح کیا کہ والدین اور طلبہ کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع اصلاحات کی جائیں گی اور کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔