اردوجدید صحافت کے معمار خان محمد لطیف خاں کو خراج عقیدت

khanناندیڑ:(ورق تازہ نیوز) معیارِ صحافت‘تعداد قارئین اور تعداد اشاعت میں ہندوستان کے نمبر (1) اردو روزنامہ ”منصف“ حیدر آباد کے ایڈیٹر انچیف خان محمد لطیف خاں کی رحلت کی خبر ہر اہل زبان اردو پربجلی بن کر گری ۔گزشتہ 24سال سے زائد عرصہ سے ”منصف“ خان محمدلطیف خاں کی ادارت میںشائع ہورہاتھا اوریہ جنوبی ہند کے تمام ریاستوں کے علاوہ وسطی ہند‘شمالی ہند کی کئی ریاستوں میں پڑھا جاتا رہا ہے۔اسے ملک کے پہلے ملٹی کلر اردو روزنامہ ہونے کااعزاز بھی حاصل ہے ۔جس کا سہرا یقینا مرحوم خان محمدلطیف خاں کے سر ہے ۔

جب منصف کے صفحات ملٹی کلر میں چھپنے لگے تواس کے چرچے نہ صرف جنوبی ہند بلکہ شمالی ہند کے اردو حلقوں میں بھی ہونے لگے تھے ۔جبکہ شمالی ہند والے جنوبی ہند والوں کی خوبیوں‘صلاحیتوں اور کارناموں کواہمیت نہیں دیتے تھے ۔ مرحوم ایڈیٹر ان چیف نے اتنا ہی نہیں کیا بلکہ اپنے اخبار کو میٹروپولیٹن شہروں سے لے کر ملک کے بے شمار موضع جات تک پہونچایا ۔جہاں اردو بولنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی ۔ اس سے قبل یہ اعزاز کسی اردو روزنامے کو حاصل نہ ہوسکاتھا ۔صحافتی معیار کو جدید صحافتی تقاضوں کے مطابق ترقی دی ۔

اردو روزنامہ اخباروںں پرہمیشہ ٹھپہ رہا کرتاتھا وہ ملک کے بڑے ہندی ‘انگریزی اورعلاقائی زبانوں کے بڑے اخبارات سے کافی پچھڑے ہوئے ہیں اس داغ کومرحوم خاں محمد لطیف خاں نے بتدریج مٹانے میں بڑی کامیاب کوشش کی ۔اس طرح انھوں نے اردو زبان او ر صحافت کو اعتبار و وقار بخشا ۔اب ”منصف“ کا آن لائن ایڈیشن ’ ای پیپراورمنصف سیٹیلائٹ نیوز چینل بھی ہے جو ساری دنیا میں پڑھااور دیکھا جاتا ہے ۔ اس لئے یہ کہنادرست ہوگاکہ مرحوم خا ن لطیف خاں ‘اردو جدیدصحافت کے معمار ہیں۔ اُن کے اچانک اس دنیا سے اُٹھ جانے سے ملّت اسلامیہ‘ اردو زبان او رصحافت کاجو نقصان ہوا ہے اُس کی تلافی ممکن نہیں اور جو خلاءپیدا ہوا ہے اُس کو شاید کوئی پُر کرسکے ۔مرحوم بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔صحافت کے علاوہ صنعتی شعبہ ہویا تعلیمی شعبہ‘انھوں نے بڑی گرانقدر خدمات انجام دیں ۔ ملّت اسلامیہ بلکہ دیگر اقوام کو بھی اپنی ذات اور اپنے اداروں سے اپنی آخری سانس تک فیض پہونچاتے رہے ۔

ناندیڑاور پربھنی سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ” ورق تازہ“ کے مدیراعلیٰ اور”ور ق تازہ ڈاٹ کام“ ویب سائٹ کے مالک محمدتقی نے کہاکہ خاں محمد لطیف خاں سے انھیں بالمشافہ ملاقات کاکبھی شرف حاصل نہیں ہوسکا جس کا انھیں ہمیشہ افسوس و ملال رہے گا۔انھوں نے کہا کہ وہ اخبار کے مداح رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے ۔محمدتقی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ اللہ رب العزت انھیں انکی بے لوث خدمات کے عوض کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ‘اُن کی چھوٹی بڑی خطاﺅں اور لغزشوں کو معاف کرے ۔پسماندگان کو صبر کرنے کی توفیق دے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading