اتراکھنڈ: خرید و فروخت کے درمیان 50 پنچایت نمائندہ لاپتہ

اتراکھنڈ میں حال ہی میں اختتام پذیر پنچایت انتخاب میں چنے گئے 50 پنچایتی نمائندوں کے لاپتہ ہونے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ ریاست کے نینی تال، چمپاوت، پتھورا گڑھ اور پوڑی گڑھوال کے ان پنچایت نمائندوں کی انتخابی نتائج کے بعد سے کوئی خبر نہیں ہے۔ اس معاملے پر ہائی کورٹ کے سخت رخ کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے ان اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ کو لاپتہ عوامی نمائندوں کو تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے ریاستی الیکشن کمیشن کے سکریٹری روشن لال نے بتایا کہ نینی تال، چمپاون، پتھوراگڑھ اور پوڑی گڑھوال کے تقریباً 50 ضلع اور علاقائی پنچایت اراکین کے غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔

دراصل پورا معاملہ دیوالی کے بعد ریاست میں ہونے والے پنچایت صدور اور بلاک چیف کے انتخاب سے جڑا بتایا جا رہا ہے۔ ان انتخابات کے لیے پنچایتی اراکین کی خرید و فروکت کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، انتخابات میں ان پنچایت نمائندوں کا ووٹ یقینی کرنے کے لیے انھیں اس وقت بیرون ممالک گھمانے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے دہرہ دون کے وکیل وپل جین نے ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ عرضی داخل کر ضلع اور مقامی پنچایت سربراہان کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر پنچایت اراکین کی خرید و فروخت اور اغوا کیے جانے کے الزامات لگائے تھے۔ اس میں ان اراکین کو بیرون ممالک گھمانے کے بھی الزامات سامنے آئے تھے۔

اس معاملے میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے 17 اکتوبر کو حکومت کو حکم دیا تھا کہ اگر پنچایت اراکین کی خرید و فروخت یا کسی اور طریقے سے ضلع پنچایت صدر اور بلاک چیف کا انتخاب متاثر کیے جانے کی بات سامنے آتی ہے تو اس معاملے میں ایف آئی آر درج کیا جائے۔

غور طلب ہے کہ اتراکھنڈ میں اسی مہینے کی 5، 11 اور 16 تاریخ کو تین مراحل میں تین سطحی پنچایت انتخاب ہوئے تھے جس میں گرام پنچایت، رکن، پردھان اور علاقائی پنچایت رکن کے ساتھ ہی ضلع پنچایت اراکین کا انتخاب ہوا تھا۔ اس انتخاب میں پنچایت اراکین کے 56 اور علاقائی پنچایت اراکین (بی ڈی سی) کے 2984 عہدوں کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی۔ اب یہی پنچایت نمائندے ریاست میں بلاک چیف اور ضلع پنچایت صدور کا انتخاب کریں گے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading