آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے بعد کرفیو نافذ، موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل

سنیچر کی صبح سحری کے وقت جب تہران میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ہلاکت کی تصدیق ہو گئی تو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرینگر اور دوسرے کئی اضلاع میں لوگ سینہ کوبی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ مظاہرے شیعہ اکثریتی ضلع کارگل کے علاوہ کشمیر کے سرینگر، پلوامہ، بارہمولہ، پانپور اور دوسرے قصبوں میں ہوئے، جہاں سے لوگوں کی بڑی تعداد سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک پہنچی، اور یہاں تاریخی گھنٹا گھر کے سامنے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

مظاہروں میں سُنی مسلمانوں کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ گھنٹا گھر کے سامنے ہزاروں شعیہ اور سُنی مسلمانوں نے ایک ساتھ نماز ظہر ادا کی۔ لوگوں نے خامنہ ای کے بڑے بڑے پوسٹرز اور سیاہ پرچم اُٹھا رکھے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کے دوران نوجوانوں نے خامنہ ای کی یاد میں کشمیری زبان میں لکھا گیا مرثیہ بھی پڑھا۔

حالانکہ یہ مظاہرے پرامن طور پر ہی منتشر ہوگئے، تاہم وزیرتعلیم سکینہ یتو نے پیر اور منگل کے روز تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا اور سبھی امتحانات اور انٹرویوز کو ملتوی کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ایکس پر اپنے پیغام میں پولیس اور انتظامیہ سے اپیل کی کہ سوگوار عوام کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ مظاہروں کے دوران کسی بھی طرح کی بدامنی سے گریز کیا جائے۔

سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے تفصیلی ردعمل میں کہا کہ ’آج کا دن تاریخ کا سب سے رنجیدہ اور شرمناک دن ہے کیونکہ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ایران کے مقبول رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر جشن منا رہے ہیں اور دوسری طرف کئی مسلم ممالک نے ضمیر پر مفاد کو ترجیح دی ہے۔ تاریخ اُن لوگوں کو فراموش نہیں کرے گی جنھوں نے حق کی لڑائی لڑی اور مظلوموں کی مدد کی۔ خدا ایرانیوں کو حوصلہ دے اور ظلم اور ناانصافی پر انھیں فتح سے نوازے۔‘

ایک درجن سے زیادہ شعیہ اور سُنی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس علما‘ کے سربراہ میرواعظ عمرفاروق نے پرامن مظاہروں کی اپیل کرتے ہوئے پیر کے روز عام ہڑتال اور پرامن مظاہروں کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے کہا، ’یہ وقت ہے کہ مسلم اُمت مسلکی اختلافات سے اوپر اُٹھ کر اتحاد کا مظاہرہ کرے۔ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہ ہڑتال کرتے ہوئے اتحاد، احترام اور مکمل امن کا مظاہرہ کریں۔‘

تاہم انتظامیہ نے پیر کے روز کشمیر کے سبھی اضلاع میں ’سکیورٹی پابندیوں‘ کا اعلان کیا ہے جس کا مطلب کرفیو ہوتا ہے۔ کئی برسوں سے ایسے موقعوں پر حکومت کرفیو لفظ کا استعمال نہیں کرتی۔ موبائل فون انٹرنیٹ کی سروسز بھی معطل ہیں۔آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر اس قدر شدید عوامی ردعمل کی وجہ جاننے کے لیے ہمیں 46 برس پیچھے جانا پڑے گا۔

15 منٹ کی تقریر نے خامنہ ای کو کشمیریوں کا ہیرو بنا دیا‘

1979 میں ہزاروں میل دُور ایران میں آئے انقلاب اور اس کے نقیب امام خمینی کے متعلق کشمیر کے لوگ صرف اخباروں کی سرخیوں کے ذریعہ متعارف تھے۔ لیکن انقلاب کے ایک سال بعد خمینی نے اپنے خاص معتمدین کو دنیا کے کئی علاقوں میں بھیجا۔ اُن کے دست راست علی خامنہ ای اسی سلسلے میں1980 کے دوران سرینگر پہنچے۔

یہاں لوگوں کی بڑی تعداد نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور اُس وقت کے میرواعظ محمد فاروق (میرواعظ عمر کے والد) کی دعوت پر وہ جمعہ کے روز تاریخی جامع مسجد پہنچے، جہاں انھوں نے 15 منٹ کی تقریر کے دوران مسلکی اتحاد پر زور دیا، امام خمینی کا تعارف کرایا اور انقلاب کے اہداف اور مقاصد بیان کیے۔

اس دورے کی روداد معروف شیعہ دانشور اور مورخ قلبِ حسین رضوی کشمیری نے اپنی خودنوشتہ سوانح میں درج کی ہے۔

قلبِ حسین کا 2015 میں انتقال ہوگیا ہے، تاہم ان کی سوانح کشمیر کے سبھی حلقوں میں مقبول ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ’فقط 15 منٹ کی تقریر نے خامنہ ای کو کشمیریوں کا ہیرو بنا دیا۔ انھوں نے نہ صرف اتحاد کی اہمیت پر زور دیا بلکہ ایک سُنی مسجد میں جاکر سُنی امام کے پیچھے نماز ادا کی۔ اُس وقت تک شیعہ اور سنی ایک دوسرے کی مساجد میں نماز نہیں ادا کرتے تھے۔ انھوں نے مختصر دورے کے دوران مسلکی رواداری اور بھائی چارے کی ایسی روایت قائم کی جو اب بھی قائم ہے۔‘

بیروت اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 31 افراد ہلاک: لبنانی وزارتِ صحت

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق بیروت اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 31 افراد ہلاک اور 149 زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ابتدائی تعداد ہےاس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر نئی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں لبنان کے کئی حصوں میں موجود ہتھیاروں کے ذخائر اور دیگر انفراسٹرکچر شامل ہیں۔

ان حملوں سے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان کے 50 سے زائد دیہاتوں کے رہائشیوں کو ’اپنی حفاظت کے لیے‘ علاقوں کو خالی کر دینے کا مشورہ دیا تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading