حیدرآباد: آندھرا پردیش کابینہ کا اجلاس وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بعض اہم فیصلے لئے گئے۔ اس اجلاس میں بجٹ سیشن، ایوان میں پیش کیے جانے والے بلز، قانون میں ترمیم کے مسودہ جات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوئی میٹنگ کے دوران کابینہ نے جیوڈیشل کمیشن کے قیام پر قانون میں ترمیم کو ہری جھنڈی دکھا دی۔ اس کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیتوں کو 50 فیصد نامزد عہدے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ قولدار کسانوں کے لئے تیار کیے گئے بل کو منظوری دی جائے جس میں مالکانہ حقوق رکھنے والوں کے حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی کابینہ نے ریاست میں 1,33,867عہدوں پر تقرری کے لئے بھی منظوری دے دی ہے۔
اراضیات کے ریکارڈس پر بھی کابینہ نے قانون میں ترمیم کو منظوری دے دی۔ دیہی علاقوں میں 11,114 ولیج سکریٹریز، شہری علاقوں میں 3786 وارڈس کے سکریٹریٹ میں قیام کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ایکوا کے کسانوں کو 1.50 روپے یونٹ بجلی فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس پر حکومت پر 417 کروڑ روپئے کا مالی بوجھ عائد ہوگا۔ آنگن واڑی ورکرس کی تنخواہوں میں اضافہ پر بھی رضامندی ظاہر کردی گئی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
