سُپر اوور میں نیشم کے چھکّے نے لی ان کے کوچ کی جان، نیشم نے آج پیش کی خراج عقیدت

14 جولائی بروز اتوار لارڈس اسٹیڈیم میں کھیلا گیا میچ کئی معنوں میں تاریخی بن گیا اور اس کے ساتھ ایک تکلیف دہ خبر بھی جڑ گئی۔ دراصل جب میچ کے دوران سُپر اوور چل رہا تھا اور نیوزی لینڈ کے بلے باز 16 رن کا تعاقب کرنے اترے تھے تو سبھی کی نگاہیں جمی نیشم پر ٹکی ہوئی تھیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ انگلینڈ کے گیندباز جوفرا آرچر کی گیند کا سامنا وہی کر رہے تھے۔ پہلی گیند وائڈ ہوئی، پھر اگلی گیند پر 2 رن بنے، اور پھر دوسری گیند پر جب نیشم نے چھکّا مارا تو نیوزی لینڈ خیمہ میں جیسے جشن کا ماحول شروع ہو گیا تھا۔ لیکن اس چھکّے کی وجہ سے جمی نیشم کے سابق استاد اور کوچ ڈیوڈ جیمس کی جان چلی گئی۔

خبروں کے مطابق نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر جمی نیشم نے جب عالمی کپ 2019 کے فائنل میں سُپر اوور کے دوران چھکا مارا تو ان کی دھڑکن تیز ہو گئیں اور پھر انھوں نے آگے کا میچ دیکھے بغیر دنیائے فانی کو الوداع کہہ دیا۔ اس حادثہ کے بارے میں کوچ ڈیوڈ جیمس گورڈن کی بیٹی لیونی کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’جب جمی نیشم نے 16 رن کا پیچھا کرتے ہوئے پیر کی صبح (نیوزی لینڈ کے وقت کے مطابق) فائنل میچ کے سُپر اوور کی دوسری گیند پر چھکا مارا تبھی والد کی موت ہو گئی۔‘‘ لیونی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’جب فائنل اوور ہو رہا تھا تو ایک نرس آئی اور اس نے بتایا کہ اُن کی (ڈیوڈ جیمس کی) دھڑکن بدل رہی ہے۔‘‘

اب ڈیوڈ جیمس کی موت کے پیش نظر جمی نیشم نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ڈیو گورڈن میرے ہائی اسکول ٹیچر، کوچ اور دوست۔ آپ کا اس کھیل کے تئیں بے پناہ پیار تھا، خاص طور پر ان کے لیے جو آپ کے ماتحت کھیلے۔ امید ہے کہ آپ نے فخر محسوس کیا ہو۔ اتنا سب دینے کے لیے شکریہ۔ جنت میں آپ کی روح کو سکون ملے۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ ڈیوڈ جیمس گورڈن آکلینڈ گرامر اسکول کے سابق استاذ اور اسپورٹس کوچ تھے۔ ان کے ماتحت کئی کھلاڑیوں کو اپنے ہنر میں نکھار پیدا کرنے کا موقع ملا۔ جمی نیشم کے علاوہ لوکی فرگوسن بھی ایسے کھلاڑی ہیں جنھیں ڈیوڈ جیمس نے کرکٹ کی باریکی سکھائی اور وہ عالمی کپ میں انگلینڈ ٹیم کا حصہ بنے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading