آل انڈیا قومی تنظیم کی نیشنل کونسل میٹنگ کا انعقاد نئی دہلی میںکیا گیا، مناف حکیم نے ابھیشیک منو سینگھوی کا کیا پرتپاک استقبال

ممبئی (آفتاب شیخ):
آل انڈیا قومی تنظیم کی نیشنل کونسل میٹنگ نئی دہلی کے کونسٹیٹیوشن کلب آف انڈیا میں قومی صدر و سابق مرکزی وزیر طارق انور کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے تنظیم کے ممتاز عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہاراشٹر قومی تنظیم کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی صدر و اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین مناف حکیم نے مہمان خصوصی، راجیہ سبھا رکن اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ابھیشیک منو سینگھوی کا شال و گلدستے کے ساتھ پرتپاک استقبال کیا۔
اس میٹنگ میں مہمانانِ خصوصی میں سابق رکن پارلیمنٹ شاہد صدیقی، کنور دانش علی، صحافی آشوتوش، سابق جج جسٹس اقبال انصاری، پروفیسر رتن لال، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل بلراج ملک، اور دیگر اہم شخصیات شامل رہیں، جنہوں نے ملک کے موجودہ سیاسی، سماجی اور آئینی حالات پر اظہار خیال کیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں طارق انور نے کہا کہ "ملک میں نفرت کی سیاست، بدنظمی، اور آئین میں چھیڑ چھاڑ کے رجحان سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے۔ کوئی بھی ملک مسلمانوں اور کمزور طبقات کو نظرانداز کرکے ترقی یافتہ نہیں بن سکتا۔" انہوں نے وزیر اعظم کے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ نعرے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے، اور آج ایک خاص طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
ابھیشیک منو سنگھوی نے وقف ترمیمی قانون کی خامیوں پر قانونی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وقف ایک آئینی حق ہے، لیکن موجودہ ترامیم کے ذریعے وقف املاک کو متنازعہ قرار دینا آسان بنا دیا گیا ہے، جس سے اقلیتوں کے حقوق پر زد پڑتی ہے۔ انہوں نے "بلڈوزر جسٹس" کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
اس موقع پر مہاراشٹر سے تنظیم کے دیگر ذمہ داران جن میں سابق وزیر انیس احمد، تنظیم کے صوبائی نائب صدر سید علی اشرف، نائب صدر حاجی ایم ڈی شیخ، جنرل سیکریٹری آفتاب شیخ، ایڈوکیٹ آصف حکیم، حاجی ذاکر شیخ، عاصم علی، سیکریٹری ابوحسن کھوت، اور عارف کانچ والا شامل تھے، نے بھی بھرپور شرکت کی۔
میٹنگ میں شاہد صدیقی نے قومی تنظیم کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ٹاڈا جیسے ظالمانہ قوانین کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا، اور آج بھی تمام طبقات کی نمائندگی کرتی ہے۔ دیگر مقررین نے بھی جمہوریت، عدلیہ میں تعصب، اظہارِ رائے کی آزادی، اور آئین کی حفاظت جیسے اہم موضوعات پر توجہ دلائی۔
میٹنگ کے آخر میں آل انڈیا قومی تنظیم کے جنرل سیکریٹری اور دہلی کانگریس کے سوشل میڈیا چیرمین ہدایت اللہ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد نہ صرف موجودہ مسائل پر غور کرنا تھا بلکہ ان کے حل کی راہیں تلاش کرنا بھی ہے۔
یہ اجلاس اس بات کا غماز تھا کہ جمہوریت، آئین اور سماجی انصاف کی بقا کے لیے سنجیدہ آوازیں اب بھی موجود ہیں، اور قومی تنظیم اس جدوجہد کا ایک مضبوط ستون ہے۔