ای وی ایم کی جانچ میں الیکشن کمیشن کی ٹال مٹول، سپریم کورٹ جانے کا انتباہ
سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ای وی ایم کی مکمل جانچ نہ ہوئی تو عدالت سے رجوع کریں گے: نسیم خان
ممبئی: ملک میں انتخابی عمل کی شفافیت کو لے کر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر نسیم خان نے الیکشن کمیشن پر ای وی ایم کی جانچ کے معاملے میں ٹال مٹول کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے مختلف ریاستوں میں انتخابات کے دوران بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جن میں ووٹر لسٹ اور ای وی ایم سے متعلق مسائل شامل ہیں، لیکن الیکشن کمیشن ان پر تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا ہے۔
ممبئی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ 2024 کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں چاندیولی حلقے سے انہوں نے ای وی ایم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے ای وی ایم مشینوں کی جانچ کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت کے حکم کے مطابق 16 اور 17 اپریل کو بوریولی میں کچھ مشینوں کی جانچ کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت نے ڈیٹا کے ساتھ مکمل تکنیکی جانچ کی ہدایت دی تھی، لیکن الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمد سے گریز کر رہا ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کی طے کردہ ایس او پی سپریم کورٹ کی رہنما ہدایات کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کنٹرول یونٹ، بیلٹ یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کو جوڑ کر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ مکمل جانچ نہیں بلکہ محض رسمی کارروائی ہے اور کانگریس اس کی مخالفت کرتی ہے۔
نسیم خان نے کہا کہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کر کے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ای وی ایم کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اگر اس پر عمل نہیں کیا گیا تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں انتخابات کا شفاف اور غیرجانبدار ہونا نہایت ضروری ہے اور اس کی مکمل ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی بھی مسلسل الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود شکایات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔
نسیم خان نے واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف چاندیولی اسمبلی حلقے تک محدود نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کی جدوجہد کا حصہ ہے، اور کانگریس اس مقصد کے لیے اپنی قانونی اور جمہوری لڑائی جاری رکھے گی۔
MPCC Urdu News 16 April 26.docx
Final Letter to ECI 15.04.2026.pdf
