پاکستان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی کے بعد ملک اپنے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب سے تین ارب ڈالرز کے ڈپازٹس حاصل کرے گا۔
واشنگٹن ڈی سی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید تین ارب ڈالرز کے ڈپازٹس فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جن کی ترسیل آئندہ ہفتے کے دوران متوقع ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پہلے سے موجود پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس اب سالانہ رول اور کی بنیاد کے تحت نہیں رہیں گے بلکہ انھیں طویل مدت کے لیے تین سال تک کی توسیع دی جائے گی، یعنی 2028 تک۔
اپریل کے اوائل میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی کا اعلان کیا تھا اور اسے ’معمول کا مالیاتی لین دین‘ قرار دیا تھا.خیال رہے کہ گذشتہ سنیچر کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے قبل جمعہ کی شب سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبد اللہ الجدعان نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔
اس سے اگلے ہی روز، سنیچر کو، سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے جس میں پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں۔محمد اورنگزیب نے یہ اعلان واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ’سپرنگ میٹنگز 2026‘ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مالی معاونت اور حکومت کی بیرونی مالیاتی حکمتِ عملی سے متعلق اہم تفصیلات بھی شیئر کیں۔وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’یہ مالی تعاون پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کے لیے ایک نہایت اہم وقت پر سامنے آیا ہے، جس سے ملک زرِمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملے گی اور ملک کے بیرونی کھاتے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔‘
اس موقع پر اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری پروگرام کے تحت اپنی ذمے داریوں کے مطابق زرِمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھے گی۔ ان کے مطابق حکومت کا ہدف موجودہ مالی سال کے اختتام تک تقریباً 18 ارب امریکی ڈالر کے ذخائر حاصل کرنا ہے، جو کہ تقریباً 3.3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہوں گے۔
وفاقی وزیر اس موقع پر بتایا کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے 1.4 ارب امریکی ڈالر کے یورو بانڈ کی کامیاب ادائیگی کی ہے اور اسے انھوں نے ایک ’نان ایونٹ‘ قرار دیا۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت آئندہ تمام بیرونی واجبات اور ادائیگیوں کو بروقت پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔
واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انھوں نے گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے ہمراہ سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے تفصیلی ملاقات کی۔