آئی وائی ایف کا عظیم الشان یک روزہ ریاستی اسٹوڈنٹس کنونشن


اکولہ :(پرویزنادر)گزشتہ ایک ہفتے سے بتاریخ ۱۹ تا ۲۵ستمبر "اسلامک یوتھ فیڈریشن”(آئی وائی ایف) کی جانب سے ‘تعلیم برائے انقلاب” کے موضوع پر ملک گیر سطح پر مہم چلائی گئی ۔ اس مہم کے تناظر میں ریاست مہاراشٹر میں بھی کالجز اور کیمپس میں مختلف تعلیمی سرگرمیاں انجام دی گئی ،اسی سلسلے کی آخری کڑی تعلیمی کنونشن کے ذریعے جو تشار ہوٹل اکولہ (مہاراشٹر)میں منعقد کی گئی تھی سے مہم کا اختتام ہوا۔

اس تعلیمی کنونشن میں مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے قریب ایک ہزار (1000) طلباء نے اپنی موجودگی درج کروائی۔ اس کانفرنس میں تعلیم کی اہمیت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے اصل مقصد پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ آئی وائی ایف کے مطابق اس وقت تعلیم کے گراف میں تیزی آئی ہے لیکن یہ تعلیم صرف معاش کے حصول کے لیے ایک ہنر اور اس کے لیے مقابلے کا باعث بن گئی ہے۔ آئی وائی ایف کے مطابق تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ معاشرے میں موجود برائیوں کے خاتمے اور صاف ستھرے معاشرے کی تشکیل ہونا چاہیے۔ اور ساتھ ہی اخلاقی اقدار کے معیار کواونچا کرنا نیز نیکی کے راستے پر چلنے کے لیے رہنمائی حاصل کرنا بھی ہے ۔

مختلف مقامات سے آئے ہوئے مفکرین و ماہرینِ تعلیم جن میں ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی، مولانا عبدالقوی فلاحی ،ڈاکٹر وجہہ القمر اور ڈاکٹر مبشر خان نے کنونشن کے شرکاء کی رہنمائی کی اور طلباء سے درخواست کی کہ وہ اپنے مستقبل کو صرف تعلیم کے ذریعے معیار زندگی اور لائف اسٹائل کی خاطر خراب نہ کریں۔ جدیدیت کے نام پر تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوجوان نسل ایسی برائیوں میں گرفتار ہو رہی ہے کہ وہاں سے نکلنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں خودکشی اور ذہنی تناؤ کا شکار ہوکر منشیات کا بے دریغ استعمال، جیسے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شرح خواندگی بڑھی ہے لیکن جرائم کی شرح میں بھی کوئی کمی نہیں آئی بلکہ بعض جرائم کی وارداتوں میں تعلیم یافتہ افراد کی شمولیت نظر آتی ہے۔اس کانفرنس کے ذریعے نئی نسل اور نوجوانوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ تعلیم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور جدیدیت کے نام پر نوجوانوں کو اخلاقی اقدار اور تعمیری کردار کے بجائے تخریب کاری سے بچنا چاہیے۔ساتھ ہی معاشرے کی تعمیر اور صالح انقلاب میں طلباء کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading