مسلمانوں کے ۵فیصد ریزرویشن سے متعلق حکومت اپناموقف واضح کرے

ممبئی: این سی پی وکانگریس نے مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیاد پر ۵ فیصد تعلیمی ومعاشی ریزوریشن دینے کا انتظام کیا تھا۔ ریاست کی شندے وفڈنویس حکومت کا اس بارے میں اب کیا موقف ہے؟ اس کی وضاحت کی جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کیا ہے۔

واضح رہے کہ ریاست میں جب این سی پی وکانگریس کی حکومت تھی تو اس نے ریاست کے مسلمانوں کوپسماندگی کی بنیادپر تعلیم وملازمت میں ۵ فیصدریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس ضمن میں حکومت نے جی آر بھی جاری کردیا تھا لیکن اس کے بعد حکومت تبدیل ہوگئی اور ریاست میں دیوندرفڈنویس کی حکومت قائم ہوگئی۔فڈنویس کی حکومت نے مسلمانوں کے اس ریزرویشن کو معلق کردیا۔ جبکہ ہائی کورٹ نے بھی مسلمانوں کوریزرویشن دینے پر اپنی رضامندی ظاہر کردی تھی۔ اس کے بعد سے مسلمانوں کے ریزرویشن کا معاملہ التواء کا شکار ہے۔

مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ ریاست کے 56مسلم اکثریتی شہروں کے مسلمانوں کی تعلیمی ومعاشی پسماندگی کا سروے ٹی آئی ایس ایس نامی ادارے کے ذریعے ریاستی حکومت نے کرانے کا اعلان کیا ہے۔جبکہ ملکی سطح پر بی جے پی کا مسلمانوں کے بارے میں کیا موقف ہے؟یہ علاحدہ سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

تپاسے نے کہا کہ 2014میں مودی نے سب کاساتھ اورسب کے وکاس کا منتر دیا تھا لیکن مودی حکومت آنے کے بعدبی جے پی نے مسلمانوں سے متعلق جو رویہ اختیار کیا وہ مودی منتر کے بالکل برخلاف ہے۔

اب ریاستی حکومت مسلمانوں کی تعلیمی ومعاشی پسماندگی سے متعلق سروے کروارہی ہے۔ اگر ریاستی حکومت کا موقف اس کے بارے میں شفافیت کا ہوتو ہم اس کا استقبال کریں گے لیکن اس سے قبل ریاستی حکومت کو یہ واضح کرناچاہئے کہ سابقہ این سی پی وکانگریس حکومت نے مسلمانوں کوجو ۵فیصد ریزرویشن دیا تھا، اس کے بارے میں اس کا کیا موقف ہے؟

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading