
کفر نے اپنے سارے داؤ پیچ کھیلنے شروع کردیئے، غزہ کو مٹانے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے اور فرعون وقت ہونے کا حق ادا کرنے کے لیے اسرائیل نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دن اور رات مسلسل غزہ پر برستے ہوئے بم ہر طرف آگ اور خاک کا منظر پیش کررہے ہیں، بڑی بڑی عمارتوں کو زمین دوس کرنے کا گویا اسرائیل کو دنیا کی بڑی طاقتوں نے ٹھیکہ دیا ہوا ہے،ہزاروں جانوں کے اتلاف کا نہ صرف اندیشہ ہے بلکہ غزہ میں ہر جانب موت ہی موت ہے‘ بلکہ ایکس پر نشر ہونے والی ایک پوسٹ کے مطابق
غزہ سے تعلق رکھنے والے کنسلٹنٹ ڈاکٹر خمیس ایلیسی کا بیان ہے کہ غزہ میں جہاں کہیں بھی آپ جا رہے ہیں، آپ کو جنازے نظر آتے ہیں، ہر طرف موت ہی موت نظر آتی ہے۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ اس زمین پر زندگی کے خاتمے کے بارے میں کوئی فلم دیکھ رہے ہیں۔‘ اہل غزہ نے اب تک دوران جنگ دو دنوں میں 400 جنازے اٹھائے ہیں۔اسرائیل کی حمایت میں دوسرا فرعون بھی آ کھڑا ہوا، امریکہ نے اسرائیل کی حمایت میں مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار جنگی بحری جہاز کے ساتھ ساتھ ایف 16 اور ایف 35 بھی تعینات کرنے کا اعلان کر دیا۔اسرائیل نے جنگ کے تمام اصول اور قوانین کو بین الاقوامی کوڑا دان میں ڈال کر اسفلس السافلین کے درجے کا معیار ہی بدل دیا،حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگی حکمت عملی یہ بیان کی تھی کے اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو ہم نے غزہ کے مختلف مقامات پر رکھا ہوا ہے،
اسرائیل اگر غزہ پر بمباری کرتا ہے تو اس کے شہریوں کو مارنے کا وہ خود ذمہ دار ہوگا، لیکن اپنے تکبر اور انسانی خون کی اہمیت سے عاری اسرائیل کو اس کی بھی فکر نہیں ہے کہ اس کے اس جنونی حیوانیت کا شکار کون ہوتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو یہ اسرائیل کی حواس باختگی اور سراسیمگی لگتی ہے کہ تمام طرح کی جدید ٹکنالوجی سے آراستہ جنگی ساز و ساماں کے ہوتے ہوئے پیراشوٹ غباروں سے آخر فلسطینی مجاہدین اس کے نا قابل تسخیر حصار میں داخل کیسے ہوگئے۔آئرن ڈوم سسٹم کے ہوتے ہوئے غزہ سے فائر کیے جانے والے راکٹوں کو روکنے میں ناکامی آخر کیوں اس کے حصے میں آرہی ہے،اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل میں ایک ہزار سے زائد حماس کے جنگجو ہر طرف کاروائیاں کررہے ہیں،
لیکن اسرائیل ان پر اب تک قابو نہیں پا سکا۔حماس کی طرف سے اسرائیل کے 600 سے زیادہ فوجیوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔بڑے بڑے فوجی عہدے داروں کے قتل سے اسرائیلی فوج میں بددلی پیدا ہورہی ہے۔اسرائیلی عوام اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے ائیر پورٹ پر دوڑی جارہی ہے کہ اسرائیل سے باہر جا سکے۔
عالمی رد عمل
اسرائیل کے نا خلف حلیفوں کے علاوہ ساری دنیا اسرائیل کے ظالمانہ اور جابرانہ انسانیت سوز کارروائیوں پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے،آزاد فلسطین کے حق میں کھیل کے میدانوں میں فلسطینی پرچم لہرا کر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے۔ دیگر تفصیلات سے قطع نظر فلسطین کے لیے دعا اور اسرائیل کے لیے قنوت نازلہ پڑھنے کی ضرورت یے۔
✍️:پرویز نادرہ