نا ندیڑ:22 مارچ ( ورق تازہ نیوز)فاروق احمد متر منڈل اور مسلم ایڈوکیٹ فورم ، ناندیڑ کی جانب سے متنازعہ عوامی تحفظ تجویزی قانون پر عوامی بیداری اور مکالمہ نشست کا22مارچ کو آر کے بینکٹ ہال دیگلورناکہ ناندیڑمیں انعقاد عمل میں آیا ۔جس میں متر منڈل کے صدر جناب فاروق احمد‘ مسلم ایڈوکیٹ فورم کے ذمہ داران ا یڈوکیٹ ایوب جاگیردار ‘ ایڈوکیٹ منیر الدین کے علاوہ سینئر صحافی الطاف ثانی نے بطور مہمانان خصوصی شرکت کی ۔اس موقع پر ”آئینی حقوق اور جمہوری اقدار پر حملہ : ایک تنقیدی جائزہ“ عنوان پرمہمانان نے خطاب کیا ۔
ابتداءمیں فاروق احمد نے ریاستی حکومت کی جانب سے” جن سورکشا بل “ پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل انتہائی خطرناک ہے ۔جو انگریزوں کے عائد کردہ قوانین اور بھارتی حکومتوں کے نافذ کردہ UAPA, ,POTA, TADA سے بھی زیادہ خطرناک ہے تاکہ کسی بھی شخص کو جو حکومت کے خلاف بولتا ہے آوازا ٹھاتا ہے اسے بہ آسانی جیل میںڈالا جاسکتا ہے اور اسکی املاک کو بھی ضبط کرنے کااختیار حکومت کو رہے گا۔کیا حکومت جھوٹے یا من گھڑت شبہات کی بنیاد پر کسی فرد یا تنظیم پر پانی لگا کر تمام اراکین کی UAPA, ,POTA, TADA سے بھی زیادہ آسانی سے گرفتار کر کے جیل میں ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے ؟
یہ سیدھا سوال دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برابری اور اظہار رائے کی آزادی کو جڑ سے ختم کرنے کا ڈھونگ چلایا جا رہا ہے۔آئینی نقطہ نظر سے اس بل کے خلاف درج ذیل اعتراضات پیش کیے جاسکتے ہیں
* بنیادی حقوق کی خلاف ورزی:اگر یہ قانون فرد اور تنظیموں کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کرتا ہے تو یہ آئین کے آرٹیکل 14 (برابری)، آرٹیکل 19 (اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی)، اور آرٹیکل 21 (زندگی اور آزادی) کی خلاف ورزی کرے گا۔
*پسماندہ طبقات پر جبر:دلت، آدیواسی اور مسلم سماج سماجی و سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والا طبقہ ہے۔ اس قانون کا غلط استعمال ان کی سماجی تحریکوں، اظہار رائے اور احتجاج کے حقوق کو محدود کر سکتا ہے۔
* غیر منصفانہ کارروائیاں اور سیاسی مقاصد:ایسے قوانین کا استعمال سماجی تبدیلی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں UAPA اور دیگر قوانین کا غلط استعمال بھی ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قانون کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
* آئینی اداروں کی بے قدری اور عدلیہ میں مداخلت:دلت، آدیواسی اور مسلم سماج کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی ادارے موجود ہیں۔ اگر یہ قانون ان اداروں کے دائرہ کار میں مداخلت کرتا ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی اور آئینی توازن کو نقصان پہنچائے گا۔
* جمہوریت اور اظہار رائے کو نقصان:اگر حکومت کو کسی فرد یا تنظیم کی سرگرمیوں کو "غیر قانونی” قرار دینے کا وسیع اختیار مل جاتا ہے تو اس سے جمہوری اقدار، اختلاف رائے، احتجاج اور سماجی اصلاحات کے لیے جدوجہد متاثر ہوگی۔ان نکات کی روشنی میں یہ ناگزیر ہے کہ حکومت فوری طور پر اس قانون پر نظر ثانی کرے، تمام متاثرہ طبقات کے تحفظات سے آگاہی، آئینی حقوق و جمہوری اقدار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات اٹھائے۔ان دلائل کی بنیاد پر اپنی تنظیم کی جانب سے مضبوط احتجاج درج کر سکتے ہیں اور اسے عوامی سطح پر اٹھا سکتے ہیں۔ ان دلائل کی بنیاد پر جب کسی تنظیم کی جانب سے احتجاج درج کروایا جا رہا ہو تو ایک طریقہ کار یہ بھی مناسب ہے کہ جن سیکولر لیڈروں کو ہم نے آئین اور قانون کی بقاء کو ذہن میں رکھ کر اپنا قیمتی دوست کیا اور انہیں رکن اسمبلی اوررکن پارلیمنٹ بنایا، ان کو بھی اس بات پر اصرار کیا جائے کہ وہ اس بل کی مخالفت ودھان سبھا اور لوک سبھا میں کرے۔مسلم ایڈوکیٹ فورم کے صدر ایڈوکیٹ ایوب جاگیردار نے کہا یکم اپریل2025 تک اس قانون کی مخالفت میں انھیں حکومت تک اعتراضات بذریعہ ای میل روانہ کرنا ہے۔ اس ضمن میںخصوصی مہم کل سے شروع کی جارہی ہے ۔