Urdu article on eid ul Adha عیدِ الاضحیٰ کی تاریخ

عید الاضحیٰ تو ھم ھر سال مناتے ہی ہیں۔ کیا کبھی ھم نے غور کیا ہیکہ یہ عید ھم کیوں مناتے ہیں؟ کس کی یاد میں مناتے ہیں؟ یہ عید کس کی قربانی کی یاد گار ہے؟

یہ عید حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اللہ تعالٰی سے بے پناہ محبت اور اللہ تعالٰی کے احکامات کی تعمیل میں اپنی عزیز ترین ہستیوں کی قربانی کی یادگار ھے۔ حضرت ابراہیم کو ایک تو الله نے اولاد ھی 86 سال کی عمر میں دی۔ اور حکم دیا کہ اسے بے آب وگیاہ صحرا میں اسے چھوڑ دو۔
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام لڑکپن کی عمر کو پہنچتے ہے, حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک عجیب اور حیرت انگیز خواب دیکھا کہ انھیں اللہ رب العزت کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے لختِ جگر کو قربان کر دے ۔ ۔ یہ وہی لخت جگر ہے جو کئی دعاؤں اور تمنّاؤں کے بعد پیرانہ سالی میں 86 سال کی عمر میں ملا ہے ۔ ۔ یہ وہی بچہ ہے جِسے حکمِ خداوندی پر آپ (علیہ السلام) نے بےآب و گیا میدان میں ان کی والدہ کے ساتھ جھلستی ہوئی وادی میں چھوڑا تھا۔ اب ایک اور امتحان کا سامنا ہے ۔ ۔ کہ لختِ جگر کو قربان بھی کرنا ہے اور اپنے ہاتھوں سے قربان کرنا ہے۔
اب ایک صورت تو یہ بھی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام پروردگار عالم کے حکم پر عمل کرتے اور بیٹے کی مرضی جانے بغیر انھیں قربان کردیتے ۔ ۔ لیکن اللہ تعالٰی کے اس امتحان میں سرفراز ہونے والے ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوچا کہ بیٹے کی مرضی کے بغیر اسے قربان کر دوں گا تو عشقِ الٰہی کے اس امتحان میں مَیں اکیلا کامیاب ہوجاؤ گا لیکن اگر بیٹے کو بھی اس امتحان کےلئے تیار کرلو تو پھر ساتھ میرا لختِ جگر بھی عشقِ الٰہی کے امتحان میں سُرخرو ہوجائے گا۔
لہذٰا ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے سے فرمایا:
"جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟”
اب بیٹا بھی تو ایثار پیشہ باپ کے وجود کا حصہ ہے کہ جس نے صبر و استقامت کا درس اپنی چھوٹی سی عمر میں انھیں کے مکتب سے سیکھا ہے۔ ۔ بیٹے نے خوشی خوشی خلوصِ دل سے فرمانِ الٰہی کا استقبال کیا انتہائی پرسکون لہجہ میں عرض کی بابا جان ۔ ۔
"انہوں نے کہا کہ بابا جان آپ کوحکم ہوا ہے وہی کیجیئے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گے۔” [سورۃ صافات]

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھلائے کِس نے اسمعٰیل کو آدابِ فرزندی

شیطان نے اپنا پورا زور لگادیا کہ کسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آزمائش میں ناکام ہوجائیں ۔ ۔ تو یہ سب سے پہلے حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے پاس آیا ۔ ۔ کہنے لگا معلوم ہے؟ آپ کا شوہر اپنے بیٹے کو ذبح کرنے جارہا ہے۔ بی بی نے کہا دور ہوجاؤ یہاں سے کبھی کوئی مہربان باپ اپنے بیٹے کو ذبح کر سکتا ہے؟ شیطان نے کہا "ان کا دعوی یہ ہے کہ انھیں ایسا کرنے کا حکم خود خدا نے دیا ہے” بس یہ سُننا تھا کہ ہاجرہ علیہا السلام نے فوراً کہا اگر اللہ تعالٰی نے حکم دیا ہے تو پھر ابراہیم جانے اور اس کا رب جانے۔
(اب یہ وہی ہاجرہ علیہا السلام ہے جِسے ابراہیم علیہ السلام نے حکم الٰہی پر ویرانے میں چلچلاتی دھوپ میں شیر خوار بچہ کے ساتھ تنہا چھوڑا تھا۔)
شیطان سے کہا اگر اللہ کا حکم ہے تو تم کون ہوتے ہو دخل دینے والے؟
بی بی نے زمین سے پتھر اٹھائیں اور شیطان کو مارا ۔ ۔
شیطان یہاں سے مایوس ہوکر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے پاس آیا کہنے لگا اے اسمعٰیل کچھ خبر ہے؟ تمہارے والد تمہیں قتل کرنے کےلئے لے جارہے ہیں۔ اسمعٰیل علیہ السلام نے پوچھا کیوں؟ شیطان نے کہا کہتے ہے کہ خدا کا حکم ہے۔ اسمعٰیل علیہ السلام نے کہا اگر خدا کا حکم ہے تو اس کے حکم کے آگے سر تسلیم خم ہے ۔ ۔ اسمعٰیل علیہ السلام نے بھی پتھر اٹھائیں اور اس کو مار کر دور بھگایا۔
اب اللہ کے نبی کے پاس آیا اور کہنے لگا کچھ خبر ہے؟ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے جارہے ہو, مت کرو ایسا,آپ کا دل یہ کیسے برداشت کرے گا؟ اس چاند سے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے ۔ ۔ ابراہیم علیہ السلام نے کچھ سنگ ریزے اٹھائے اور شیطان کو مار کر دور بھگادیا۔
مردود (شیطان) تین مرتبہ بھگا دیا گیا۔
شیطان کو ملال ہوا کہ اس کی کوئی چال کارگر نہیں ہوسکی۔ ۔ ابراہیم علیہ السلام لختِ جگر کو سرزمینِ منٰی کے گرم پہاڑوں کے درمیان قربان گاہ میں لے آئے ۔ ۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے فرمایا: باباجان رسی کو مضبوطی سے باندھ لیجے گا تاکہ میں فرمانِ خداوندی کے ادراک کے وقت اپنے ہاتھ پیر نہ ہِلاؤں ۔ ۔ مجھے خدشہ ہے کہ اس سے میرے اجر میں کمی نہ واقع ہوجائے اور بابا جان جب گھر واپس تشریف لے جانا تو میری ماں کو میرا سلام کہئے گا اور ہوسکے تو میرا کرتا میری ماں کے پاس لے جائیے گا تاکہ وہ میری خوشبو سونگ کر سکونِ قلب پاسکے۔ کہا بابا جان مجھے زمین پر سجدے کی حالات میں لٹا کر قربان کیجے گا کہ یہ قربانی کی بہترین حالات ہے اور ایسی صورت میں آپ کی نگاہِیں میرے چہرے پر نہیں پڑے گی ۔ ۔
چشمِ فلک نے آج سے پہلے ایسا عظیم بیٹا نہیں دیکھا جو اپنی موت کا سامان کرنے میں اپنے والد کی مدد کررہا ہے ۔ ۔ بِلا آخر وہ حساس لمحے آ پہنچے جب فرمانِ الٰہی کی تکمیل ہونا تھی ۔ ۔ ابراہیم علیہ السلام نے جب بیٹے کے مقامِ تسلیم کو دیکھا بیٹے کو اپنی آغوش میں لیا, بیٹے کی استقامت کی داد دی ۔ ۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر کے چاند جیسے چہرے کو خاک پر رکھ دیا پوری قوت کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام نے چھری چلا دی ۔ ۔ لیکن تیز دھار چھری نے فرزند کے لطیف و نازک گلے پر معمولی سا بھی اثر نہ کیا ۔ ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام حیرت میں ڈوب گئے دوبارہ چھری کو چلایا ۔ ۔ لیکن پھر بھی وہ کارگر ثابت نہ ہوئی گویا "چھری سے خلیل کہتا کہ کاٹ , مگر جلیل کہہ رہا ہے کہ نہ کاٹ” چھری تو صرف اسی جل شانہ کے تابع فرمان ہے ۔ ۔
"جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا تو ہم نے ان کو پکارا اے ابراہیم تم نے خواب سچا کر دکھایا ہم نیکوکاروں کو ایسے ہی بدلہ دیا کرتے ہے” [سورۃ صافات]
بِلا شبہ یہ سریع آزمائش تھی ۔ ۔ تو ہوا کیا
"ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دے دیا”
[سورۃ صافات]
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ آگیا تھا اور اللہ تعالی نے ان کے خلوص کی بدولت ان کی قربانی کو قبول کرتے ہوئے جنت سے دنبہ اٹھا لیا تھا بس یہ وہی دنبہ تھا جو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی کا فدیہ بن گیا۔ بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا وہ بھی ایسا بیٹا جس کے انتظار میں باپ نے ایک عمر گزاری اور اس سے بڑھ کر عظیم بیٹے کی استقامت تسلیم و رضا کو دیکھ کر فرشتے بھی عش عش کر اٹھے "اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا ذکرِ خیر باقی چھوڑ دیا ابراہیم پر سلام ہو نیکوں کاروں کو ہم ایسے ہی بدلہ دیا کرتے ہیں” [سورۃ صافات]
یہ عظیم عشق و قربانی کا واقعہ اپنے دامن میں بہت سی حکمتوں کو سمائے ہوئے ہیں۔
اس واقعہ نے جہاں ایک طرف اللہ تعالٰی کی اطاعت کی مثال قائم کی وہیں بیٹے کی فرمابرداری کی بھی ایک اعلیٰ مثال قائم کردی۔ دونوں باپ بیٹے کی یہ فرما برداری اور اطاعت اللہ تعالٰی کو اتنی پسند آئی کی اس نے اس کی یاد عید ارباب کی شکل میں تا قیامت قائم کردی۔ اسی یاد کو ھر سال ھم عیدالاضحیٰ منا کر تازہ کرتے ہیں۔

بقلم: عائشہ نبیلہ بنت شیخ محمود
اورنگ آباد

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading