نظم: گواہی دو کہ تم پر فرض ہے یہ…گوہر رضا

گواہی دو کہ تم اس دور سے گزرے ہو جب دورِ خزاں تھا گواہی دو کہ بہتے وقت کے دھارے بہت سنگین تھے تب بہاؤ تیز تھا، اور تیرنا مشکل تھا بے حد گواہی دو کہ تم اس دور سے گزرے ہو جب حکام نے خود کو خدا سمجھا گواہی دو کہ تم موجود تھے … Read more

نظم: صدائے حق … عاقب جاوید علیگ

ہم خاکِ وطن کی خوشبو ہیں، بے داغ ہمارا دامن ہے ہم اہل جہاں میں یکتا ہیں، انصاف ہمارا نعرہ ہے بے باک ہماری فطرت ہے، باطل سے ہمیں ٹکرانا ہے اس ملک کے ہم سب شہری ہیں، سرکار کو یہ بتلانا ہے . ہم سینہ سپر ہیں، آہن ہیں، ہم شعلہ ہیں، انگارا ہیں … Read more

نظم: شاہین نہیں گھبرائیں گے… عمران خان

دشمن کی ہو سازش کتنی، شاہین نہیں گھبرائیں گے ہو دھمکی یا گیدڑ بھبکی، شاہین نہیں گھبرائیں گے جس مٹی سے پیدا ہیں ہم، اس مٹی پر جینا مرنا دہشت پھیلانے والوں سے، اب اور نہیں ہم کو ڈرنا اب دینے سے ہر قربانی، شاہین نہیں گھبرائیں گے دشمن کی ہو سازش کتنی، شاہین نہیں … Read more