نظم: گواہی دو کہ تم پر فرض ہے یہ…گوہر رضا
گواہی دو کہ تم اس دور سے گزرے ہو جب دورِ خزاں تھا گواہی دو کہ بہتے وقت کے دھارے بہت سنگین تھے تب بہاؤ تیز تھا، اور تیرنا مشکل تھا بے حد گواہی دو کہ تم اس دور سے گزرے ہو جب حکام نے خود کو خدا سمجھا گواہی دو کہ تم موجود تھے … Read more